Book - حدیث 499

كِتَابُ الصَّلَاةِ بَابُ كَيْفَ الْأَذَانُ حسن صحیح حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مَنْصُورٍ الطُّوسِيُّ، حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ، حَدَّثَنَا أَبِي، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ، حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ الْحَارِثِ التَّيْمِيُّ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ زَيْدِ بْنِ عَبْدِ رَبِّهِ، قَالَ: حَدَّثَنِي أَبِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ زَيْدٍ، قَالَ: لَمَّا أَمَرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِالنَّاقُوسِ -يُعْمَلُ لِيُضْرَبَ بِهِ لِلنَّاسِ لِجَمْعِ الصَّلَاةِ- طَافَ بِي وَأَنَا نَائِمٌ رَجُلٌ يَحْمِلُ نَاقُوسًا فِي يَدِهِ، فَقُلْتُ: يَا عَبْدَ اللَّهِ أَتَبِيعُ النَّاقُوسَ؟! قَالَ: وَمَا تَصْنَعُ بِهِ؟ فَقُلْتُ: نَدْعُو بِهِ إِلَى الصَّلَاةِ، قَالَ: أَفَلَا أَدُلُّكَ عَلَى مَا هُوَ خَيْرٌ مِنْ ذَلِكَ؟! فَقُلْتُ لَهُ: بَلَى، قَالَ: فَقَالَ: تَقُول: لَّهُ أَكْبَرُ اللَّهُ أَكْبَرُ، اللَّهُ أَكْبَرُ اللَّهُ أَكْبَرُ، أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ، أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ، أَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا رَسُولُ اللَّهِ، أَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا رَسُولُ اللَّهِ، حَيَّ عَلَى الصَّلَاةِ، حَيَّ عَلَى الصَّلَاةِ، حَيَّ عَلَى الْفَلَاحِ، حَيَّ عَلَى الْفَلَاحِ، اللَّهُ أَكْبَرُ، اللَّهُ أَكْبَرُ، لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ. قَالَ: ثُمَّ اسْتَأْخَرَ عَنِّي غَيْرَ بَعِيدٍ، ثُمَّ قَالَ: وَتَقُولُ إِذَا أَقَمْتَ الصَّلَاةَ: اللَّهُ أَكْبَرُ اللَّهُ أَكْبَرُ، أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ، أَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا رَسُولُ اللَّهِ، حَيَّ عَلَى الصَّلَاةِ، حَيَّ عَلَى الْفَلَاحِ، قَدْ قَامَتِ الصَّلَاةُ قَدْ قَامَتِ الصَّلَاةُ، اللَّهُ أَكْبَرُ اللَّهُ أَكْبَرُ، لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ. فَلَمَّا أَصْبَحْتُ أَتَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَأَخْبَرْتُهُ بِمَا رَأَيْتُ، فَقَالَ: >إِنَّهَا لَرُؤْيَا حَقٌّ إِنْ شَاءَ اللَّهُ، فَقُمْ مَعَ بِلَالٍ فَأَلْقِ عَلَيْهِ مَا رَأَيْتَ، فَلْيُؤَذِّنْ بِهِ, فَإِنَّهُ أَنْدَى صَوْتًا مِنْكَ<. فَقُمْتُ مَعَ بِلَالٍ، فَجَعَلْتُ أُلْقِيهِ عَلَيْهِ وَيُؤَذِّنُ بِهِ، قَالَ: فَسَمِعَ ذَلِكَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ وَهُوَ فِي بَيْتِهِ، فَخَرَجَ يَجُرُّ رِدَاءَهُ وَيَقُولُ: وَالَّذِي بَعَثَكَ بِالْحَقِّ يَا رَسُولَ اللَّهِ، لَقَدْ رَأَيْتُ مِثْلَ مَا رَأَى، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: >فَلِلَّهِ الْحَمْدُ<. قَالَ أَبو دَاوُدَ: هَكَذَا رِوَايَةُ الزُّهْرِيِّ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ زَيْدٍ وقَالَ فِيهِ ابْنُ إِسْحَاقَ عَنِ الزُّهْرِيِّ: اللَّهُ أَكْبَرُ اللَّهُ أَكْبَرُ، اللَّهُ أَكْبَرُ اللَّهُ أَكْبَرُ. و قَالَ مَعْمَرٌ وَيُونُسُ عَنِ الزُّهْرِيِّ فِيهِ: اللَّهُ أَكْبَرُ، اللَّهُ أَكْبَرُ، لَمْ يُثَنِّيَا.

ترجمہ Book - حدیث 499

کتاب: نماز کے احکام ومسائل باب: اذان کیسے دی جائے؟ جناب محمد بن عبداللہ بن زید بن عبدربہ کہتے ہیں کہ مجھے میرے والد سیدنا عبداللہ بن زید نے بتایا کہ جب رسول اللہ ﷺ نے ناقوس بنانے کا حکم دیا تاکہ اسے بجا کر لوگوں کو نماز کے لیے جمع کیا جائے تو میں نے خواب میں دیکھا کہ میرے پاس سے ایک آدمی گزر رہا ہے ، ہاتھ میں ناقوس لیے ہوئے ہے ۔ میں نے اس سے کہا : اے اللہ کے بندے ! کیا تو ناقوس بیچے گا ؟ اس نے کہا : تم اس کا کیا کرو گے ؟ میں نے کہا : ہم اس سے لوگوں کو نماز کے لیے بلائیں گے ۔ وہ کہنے لگا : کیا میں تمہیں وہ چیز نہ بتا دوں جو اس سے زیادہ بہتر ہے ۔ میں نے کہا : کیوں نہیں ۔ اس نے کہا : تم یوں کہا کرو «الله أكبر الله أكبر الله أكبر الله أكبر أشهد أن لا إله إلا الله أشهد أن لا إله إلا الله أشهد أن محمدا رسول الله أشهد أن محمدا رسول الله حى على الصلاة حى على الصلاة حى على الفلاح حى على الفلاح الله أكبر الله أكبر لا إله إلا الله» ” اللہ سب سے بڑا ہے ۔ اللہ سب سے بڑا ہے ۔ اللہ سب سے بڑا ہے ۔ اللہ سب سے بڑا ہے ۔ میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا اور کوئی معبود نہیں ۔ میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا اور کوئی معبود نہیں ۔ میں گواہی دیتا ہوں کہ محمد اللہ کے رسول ہیں ۔ میں گواہی دیتا ہوں کہ محمد اللہ کے رسول ہیں ۔ آؤ نماز کی طرف ۔ آؤ نماز کی طرف ۔ آؤ کامیابی کی طرف ۔ آؤ کامیابی کی طرف ۔ اللہ سب سے بڑا ہے ۔ اللہ سب سے بڑا ہے ۔ اللہ کے سوا اور کوئی معبود نہیں ۔ “ پھر وہ مجھ سے کچھ پیچھے ہٹ گیا اور کہا جب تم نماز کے لیے کھڑے ہو تو یوں کہو : «الله أكبر الله أكبر أشهد أن لا إله إلا الله أشهد أن محمدا رسول الله حى على الصلاة حى على الفلاح قد قامت الصلاة قد قامت الصلاة الله أكبر الله أكبر لا إله إلا الله» نماز کھڑی ہو گئی ہے ۔ نماز کھڑی ہو گئی ہے ۔ جب صبح ہوئی تو میں رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا اور جو کچھ خواب میں دیکھا تھا آپ ﷺ کو بتلایا ۔ تو آپ ﷺ نے فرمایا ” یہ انشاء اللہ سچا خواب ہے ۔ تم بلال کے ساتھ کھڑے ہو جاؤ اور اسے وہ کلمات بتاتے جاؤ جو تم نے دیکھے ہیں ۔ وہ اذان کہے گا کیونکہ وہ تم سے زیادہ بلند آواز والا ہے ۔ “ چنانچہ میں بلال کے ساتھ کھڑا ہو گیا اور انہیں وہ الفاظ بتاتا گیا اور وہ اذان کہتے گئے ۔ سیدنا عمر ؓ اپنے گھر میں تھے ، انہوں نے اسے سنا تو ( جلدی سے ) چادر گھسیٹتے ہوئے آئے ، کہنے لگے : قسم اس ذات کی جس نے آپ کو حق دے کر بھیجا ہے ، اے اللہ کے رسول ! میں نے بھی یہی خواب دیکھا ہے جیسے کہ اسے دکھایا گیا ہے ، تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ” تعریف اللہ ہی کے لیے ہے ۔ “ امام ابوداؤد ؓ کہتے ہیں کہ زہری کی سعید بن مسیب سے اور ان کی عبداللہ بن زید سے روایت ایسے ہی ہے ۔ اس میں ابن اسحاق نے زہری سے یہی الفاظ نقل کیے ہیں : «الله أكبر الله أكبر الله أكبر الله أكبر» جبکہ معمر اور یونس ، زہری سے ( صرف ) «الله أكبر الله أكبر» روایت کیا ہے ۔ انہوں نے دہرا کر ذکر نہیں کیا ۔ سچے خوابوں کے متعلق احادیث میں آتا ہے۔ کہ یہ نبوت کا چھیالیسواں حصہ ہوتے ہیں۔اور بالعموم انسان کے اعمال وافکار اور خوابوں میں مطابقت ہوا کرتی ہے۔یہ خواب عبد اللہ بن زید اور حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی فطری سعادت کی دلیل ہے۔ 2۔چاہیے کہ موذن بلند وشیریں آواز اور عمدہ لہجے والا ہو۔3۔بہتر ہے کہ اذان اور اقامت کی جگہیں مختلف ہوں۔4۔حضرت بلال رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی اذان میں اذان دہری اور اقامت اکہری ذکر ہوئی ہے۔