Book - حدیث 497

كِتَابُ الصَّلَاةِ بَابُ مَتَى يُؤْمَرُ الْغُلَامُ بِالصَّلَاةِ ضعیف حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ دَاوُدَ الْمَهْرِيُّ، حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ، حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ سَعْدٍ: حَدَّثَنِي مُعَاذُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ خُبَيْبٍ الْجُهَنِيُّ، قَالَ: دَخَلْنَا عَلَيْهِ، فَقَالَ لِامْرَأَتِهِ: مَتَى يُصَلِّي الصَّبِيُّ؟ فَقَالَتْ: كَانَ رَجُلٌ مِنَّا يَذْكُرُ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَنَّهُ سُئِلَ عَنْ ذَلِكَ؟ فَقَال:َ >إِذَا عَرَفَ يَمِينَهُ مِنْ شِمَالِهِ فَمُرُوهُ بِالصَّلَاةِ<.

ترجمہ Book - حدیث 497

کتاب: نماز کے احکام ومسائل باب: بچے کو کس عمر میں نماز کا حکم دیا جائے؟ معاذ بن عبداللہ بن خبیب جہنی سے مروی ہے ( ہشام بن سعد نے کہا کہ ) ہم معاذ بن عبداللہ کے ہاں گئے تو انہوں نے اپنی اہلیہ سے پوچھا کہ بچہ کب نماز پڑھے ؟ تو اس نے بتایا کہ ہمارے ہاں ایک صاحب تھے ، وہ رسول اللہ ﷺ سے بیان کرتے تھے کہ آپ ﷺ سے اس بارے میں پوچھا گیا تو آپ ﷺ نے فرمایا ” جب وہ دائیں بائیں کا فرق سمجھنے لگے تو اسے نماز کا حکم دو ۔ “ سات سال کی عمر میں بچے کے شعور میں مناسب پختگی آجاتی ہے۔ نماز کے معاملے میں اس پر اس سے پہلے ہی محنت شروع کردینی چاہیے۔