Book - حدیث 4875

كِتَابُ الْأَدَبِ بَابٌ فِي الْغِيبَةِ صحیح حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا يَحْيَى، عَنْ سُفْيَانَ، قَالَ: حَدَّثَنِي عَلِيُّ بْنُ الْأَقْمَرِ، عَنْ أَبِي حُذَيْفَةَ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ: قُلْتُ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: حَسْبُكَ مِنْ صَفِيَّةَ كَذَا وَكَذَا!، قَالَ غَيْرُ مُسَدَّدٍ تَعْنِي: قَصِيرَةً!-، فَقَالَ: >لَقَدْ قُلْتِ كَلِمَةً, لَوْ مُزِجَتْ بِمَاءِ الْبَحْرِ لَمَزَجَتْهُ<، قَالَتْ: وَحَكَيْتُ لَهُ إِنْسَانًا! فَقَالَ: >مَا أُحِبُّ أَنِّي حَكَيْتُ إِنْسَانًا وَأَنَّ لِي كَذَا وَكَذَا<.

ترجمہ Book - حدیث 4875

کتاب: آداب و اخلاق کا بیان باب: غیبت کے احکام و مسائل ام المؤمنین سیدہ عائشہ ؓا کہتی ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ سے کہہ دیا : آپ کو صفیہ ؓا میں یہی کافی ہے کہ وہ ایسے ایسے ہے ، مسدد کے علاوہ دوسرے نے وضاحت کی کہ اس سے ان کی مراد سیدہ صفیہ ؓا کا پستہ قد ہونا تھا ۔ تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ” تم نے ایسا کلمہ کہا ہے کہ اگر اسے سمندر میں ملا دیا جائے تو کڑوا ہو جائے ۔ “ سیدہ عائشہ ؓا کہتی ہیں کہ میں نے آپ ﷺ کے سامنے کسی کی نقل اتاری تو آپ ﷺ نے فرمایا ” میں کسی کی نقل اتارنا پسند نہیں کرتا ‘ خواہ مجھے اتنا اتنا مال بھی ملے ۔ “ کسی کی فطری خلقت پر عیب لگانا اور تمسخر اور ٹھٹھا کرنا حرام ہے- یہ گو یا اللہ عزوجل پر عیب لگانا اور اپنی بڑائی کا اظہار ہے۔ جب فطری امور پر عیب لگانا حرام ہے تو اعمال پر تبصرہ بھی جائز نہیں الا یہ کہ کوئی مصیبت کا عمل ہو تا کہ عبرت ہو۔ اگر اس نے توبہ کرلی ہو تو ذکر کرنا بالا ولٰی جائز نہیں۔ البتہ اعمالِ خیر کا ذکر جائز ہے۔