Book - حدیث 4871

كِتَابُ الْأَدَبِ بَابٌ فِي الْقَتَّاتِ صحیح حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ وَأَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، قَالَا: حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ هَمَّامٍ، عَنْ حُذَيْفَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: >لَا يَدْخُلُ الْجَنَّةَ قَتَّاتٌ<.

ترجمہ Book - حدیث 4871

کتاب: آداب و اخلاق کا بیان باب: چغل خور کا بیان سیدنا حذیفہ ؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ” چغل خور جنت میں نہیں جائے گا ۔ “ ) لوگوں میں فساد ڈالنے کی غرض سے ایک دوسرے کی باتیں ادھر ادھر نقل کرنا بدترین خصلت ہے۔ لوگوں کے نزدیک بھی اور اللہ کے ہاں بھی۔ 2) اس طرح کی احادیث عموما ایسے ہی بیان کرنی چاہیئںتاہم نص قرآنی سے ثابت ہے کہ جنت صرف مشرک پر حرام ہےلیکن بطور سزا کے مسلمان بھی جہنم کا عذاب بھگتیں گے۔ اس لیئے بعض اعمال کی بابت جو آتا ہے کہ اس کا مرتکب جنت میں نہیں جائے گا تو اس کے معنی یہ ہوتے ہیں کہ ابتدائی طور پر جنت میں داخل نہیں کیا جائے گا۔ البتہ سزا اور عتاب کے بعد جنت میں جائے گا۔ 3) عربی زبان میں(قتات) اور (نمام) میں فرق یہ کیا جاتا ہے کہ (نمام) مجلس میں حاضر رہ کر وہاں کی باتیں دوسروں کو جا بتاتا ہے جبکہ (قتات) چوری چھپے سن کر نقل کرتا ہے۔