Book - حدیث 4861

كِتَابُ الْأَدَبِ بَابٌ فِي الْحَذَرِ مِنْ النَّاسِ ضعیف حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى بْنِ فَارِسٍ، حَدَّثَنَا نُوحُ بْنُ يَزِيدَ بْنِ سَيَّارٍ الْمُؤَدِّبُ، حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ سَعْدٍ قَالَ حَدَّثَنِيهِ ابْنُ إِسْحَاقَ، عَنْ عِيسَى بْنِ مَعْمَرٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرِو بْنِ الْفَغْوَاءِ الْخُزَاعِيِّ، عَنْ أَبِيهِ قَالَ، دَعَانِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَقَدْ أَرَادَ أَنْ يَبْعَثَنِي بِمَالٍ إِلَى أَبِي سُفْيَانَ، يَقْسِمُهُ فِي قُرَيْشٍ بِمَكَّةَ بَعْدَ الْفَتْحِ، فَقَالَ: >الْتَمِسْ صَاحِبًا<. قَالَ: فَجَاءَنِي عَمْرُو بْنُ أُمَيَّةَ الضَّمْرِيُّ، فَقَالَ: بَلَغَنِي أَنَّكَ تُرِيدُ الْخُرُوجَ وَتَلْتَمِسُ صَاحِبًا!؟ قَالَ: قُلْتُ: أَجَلْ، قَالَ: فَأَنَا لَكَ صَاحِبٌ، قَالَ: فَجِئْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قُلْتُ: قَدْ وَجَدْتُ صَاحِبًا! قَالَ: فَقَالَ: >مَنْ؟<، قُلْتُ: عَمْرُو بْنُ أُمَيَّةَ الضَّمْرِيُّ، قَالَ: >إِذَا هَبَطْتَ بِلَادَ قَوْمِهِ فَاحْذَرْهُ, فَإِنَّهُ قَدْ قَالَ الْقَائِلُ: أَخُوكَ الْبِكْرِيُّ وَلَا تَأْمَنْهُ!<. فَخَرَجْنَا حَتَّى إِذَا كُنْتُ بِالْأَبْوَاءِ, قَالَ: إِنِّي أُرِيدُ حَاجَةً إِلَى قَوْمِي بِوَدَّانَ، فَتَلَبَّثْ لِي، قُلْتُ: رَاشِدًا، فَلَمَّا وَلَّى ذَكَرْتُ قَوْلَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَشَدَدْتُ عَلَى بَعِيرِي، حَتَّى خَرَجْتُ أُوضِعُهُ، حَتَّى إِذَا كُنْتُ بِالْأَصَافِرِ, إِذَا هُوَ يُعَارِضُنِي فِي رَهْطٍ، قَالَ: وَأَوْضَعْتُ، فَسَبَقْتُهُ، فَلَمَّا رَآنِي قَدْ فُتُّهُ، انْصَرَفُوا، وَجَاءَنِي، فَقَالَ: كَانَتْ لِي إِلَى قَوْمِي حَاجَةٌ، قَالَ: قُلْتُ: أَجَلْ، وَمَضَيْنَا حَتَّى قَدِمْنَا مَكَّةَ، فَدَفَعْتُ الْمَالَ إِلَى أَبِي سُفْيَانَ.

ترجمہ Book - حدیث 4861

کتاب: آداب و اخلاق کا بیان باب: لوگوں سے ہوشیار رہنے کا بیان ( ہر کوئی قابل بھروسہ نہیں ہوتا ) جناب عبداللہ بن عمرو بن فغواء خزاعی اپنے والد سے بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے مجھے بلوایا ۔ جب کہ آپ ﷺ مجھے کچھ مال دے کر مکہ میں سیدنا ابوسفیان ؓ کے ہاں بھیجنا چاہ رہے تھے جو وہ اہل قریش میں تقسیم کر دیتا اور یہ فتح مکہ کے بعد کا واقعہ ہے ۔ آپ ﷺ نے مجھے فرمایا ” کوئی رفیق سفر ڈھونڈ لو ۔ “ چنانچہ عمرو بن امیہ ضمری میرے پاس آیا اور کہا سنا ہے کہ تم مکے جانا چاہتے ہو اور رفیق سفر کی تلاش میں ہو ۔ میں نے کہا : ہاں ۔ اس نے کہا : میں تمہارے ساتھ چلوں گا ۔ چنانچہ میں رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا اور عرض کیا کہ میں نے رفیق سفر ڈھونڈ لیا ہے ۔ آپ ﷺ نے پوچھا ” کون ؟ “ میں نے بتایا کہ عمرو بن امیہ ضمری ۔ آپ ﷺ نے فرمایا ” جب تم اس کی قوم کے علاقے میں اترو تو ہوشیار رہنا ۔ “ کہنے والے نے کہا ہے کہ بکری ( با کے زیر کے ساتھ ) تیرا بھائی ہے مگر اس پر اعتماد نہ کرنا ۔ چنانچہ ہم نکل پڑے ۔ حتیٰ کہ جب میں ابواء مقام پر پہنچا تو اس نے مجھ سے کہا کہ مجھے اپنی قوم سے ایک کام ہے میں ودان جا رہا ہوں تم یہاں رک کر میرا انتظار کرنا ۔ میں نے کہا : خیر سلامتی سے جاؤ ۔ جب وہ روانہ ہوا تو مجھے نبی کریم ﷺ کا فرمان یاد آیا تو میں اپنے اونٹ پر سوار ہو لیا اور اسے بھگاتا ہوا اصافر تک جا پہنچا ۔ تو اچانک دیکھتا ہوں کہ امیہ اپنی قوم کے کچھ لوگوں کے ساتھ میرے آڑے آ گیا ہے ۔ چنانچہ میں نے اپنا اونٹ اور تیز بھگایا حتیٰ کہ ان سے آگے نکل گیا ۔ جب انہوں نے دیکھا کہ میں ان کے ہاتھوں سے نکل گیا ہوں تو وہ واپس ہو گئے ۔ پھر وہ ( اکیلا ) میرے پاس آیا اور کہنے لگا کہ مجھے اپنی قوم کے ہاں ایک کام تھا ۔ میں نے کہا : ہو گا ۔ حتیٰ کہ ہم مکہ آ گئے اور میں نے وہ مال سیدنا ابوسفیان ؓ کے حوالے کر دیا ۔ یہ روایت سندَا ضعیف ہےتاہم اس میں بیان کردہ کئی باتیں صحیح احادیث سے ثابت ہیں۔ مثلاََ سفر میں ساتھی ضرور ہونا چاہیئے۔ اکیلے سفر کرنا خطرات سے خالی نہیں۔ 2) مخلص ساتھی کے سوا ہر کسی کو اپنا راز دینا اور اس پر کلی بھروسہ کرلینا بھی روا نہیں۔ 3) صدقات اور بیت المال سے نئے مسلمانوں کی تالیف قلب ہوتی رہنی چاہیئے تا کہ وہ اسلام میں راسخ ہو جائیں۔ 4) مصلحت کے پیشِ نظر ایک شہر کے صدقات دوسرے شہروں میں منتقل کرنا جائز ہے۔