Book - حدیث 485

كِتَابُ الصَّلَاةِ بَابُ فِي كَرَاهِيَةِ الْبُزَاقِ فِي الْمَسْجِدِ ضعیف حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ الْفَضْلِ السِّجِسْتَانِيُّ وَهِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ وَسُلَيْمَانُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الدِّمَشْقِيَّانِ بِهَذَا الْحَدِيثِ وَهَذَا لَفْظُ يَحْيَى بْنِ الْفَضْلِ السِّجِسْتَانِيِّ قَالُوا، حَدَّثَنَا حَاتِمُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ، حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ مُجَاهِدٍ أَبُو حَزْرَةَ، عَنْ عُبَادَةَ بْنِ الْوَلِيدِ بْنِ عُبَادَةَ بْنِ الصَّامِتِ: أَتَيْنَا جَابِرًا –يَعْنِي: ابْنَ عَبْدِ اللَّهِ- وَهُوَ فِي مَسْجِدِهِ، فَقَالَ: أَتَانَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي مَسْجِدِنَا هَذَا، وَفِي يَدِهِ عُرْجُونُ ابْنِ طَابٍ، فَنَظَرَ, فَرَأَى فِي قِبْلَةِ الْمَسْجِدِ نُخَامَةً، فَأَقْبَلَ عَلَيْهَا، فَحَتَّهَا بِالْعُرْجُونِ، ثُمَّ قَالَ: >أَيُّكُمْ يُحِبُّ أَنْ يُعْرِضَ اللَّهُ عَنْهُ بِوَجْهِهِ؟!<، ثُمَّ قَالَ: >إِنَّ أَحَدَكُمْ إِذَا قَامَ يُصَلِّي، فَإِنَّ اللَّهَ قِبَلَ وَجْهِهِ، فَلَا يَبْصُقَنَّ قِبَلَ وَجْهِهِ، وَلَا عَنْ يَمِينِهِ، وَلْيَبْزُقْ عَنْ يَسَارِهِ تَحْتَ رِجْلِهِ الْيُسْرَى، فَإِنْ عَجِلَتْ بِهِ بَادِرَةٌ، فَلْيَقُلْ بِثَوْبِهِ هَكَذَا<. وَوَضَعَهُ عَلَى فِيهِ ثُمَّ دَلَكَهُ، ثُمَّ قَالَ: >أَرُونِي عَبِيرًا<، فَقَامَ فَتًى مِنَ الْحَيِّ يَشْتَدُّ إِلَى أَهْلِهِ، فَجَاءَ بِخَلُوقٍ فِي رَاحَتِهِ، فَأَخَذَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَجَعَلَهُ عَلَى رَأْسِ الْعُرْجُونِ، ثُمَّ لَطَخَ بِهِ عَلَى أَثَرِ النُّخَامَةِ. قَالَ جَابِرٌ: فَمِنْ هُنَاكَ جَعَلْتُمُ الْخَلُوقَ فِي مَسَاجِدِكُمْ.

ترجمہ Book - حدیث 485

کتاب: نماز کے احکام ومسائل باب: مسجد میں تھوکنے کی کراہت جناب عبادہ بن ولید بن عبادہ بن صامت نے کہا کہ ہم سیدنا جابر یعنی جابر بن عبداللہ ؓ کے ہاں آئے اور وہ اپنی مسجد میں تھے ۔ انہوں نے بیان کیا کہ رسول اللہ ﷺ ہماری مسجد میں تشریف لائے اور آپ ﷺ کے ہاتھ میں ابن طاب کھجور کی شاخ تھی ۔ آپ ﷺ نے دیکھا تو آپ کی نظر قبلے کی دیوار پر لگے بلغم پر پڑی ۔ آپ ﷺ اس کی طرف گئے اور شاخ سے کھرچ ڈالا ، پھر فرمایا ” تم میں سے کون پسند کرتا ہے کہ اللہ اس سے منہ پھیر لے ؟ “ پھر فرمایا ” جب تم نماز کے لیے کھڑے ہوتے ہو تو اللہ تعالیٰ تمہارے سامنے ہوتا ہے ، تو کوئی شخص اپنے قبلہ رخ یا دائیں طرف ہرگز نہ تھوکے بلکہ اپنے بائیں جانب یا بائیں قدم کے نیچے تھوکے ۔ اگر جلدی ہو تو اپنے کپڑے میں ایسے ایسے کر لیا کرے ۔“ آپ ﷺ نے کپڑا اپنے منہ پر رکھا پھر اسے مسل دیا ، پھر فرمایا ” خوشبو لاؤ ۔“ تو قبیلے کا ایک نوجوان اٹھا اور دوڑتا ہوا اپنے گھر گیا اور اپنی ہتھیلی میں خوشبو لے آیا ، تو رسول اللہ ﷺ نے اسے شاخ کے سرے پر لگا کر بلغم والی جگہ پر لگا دیا ۔ جابر ؓ نے کہا : بس یہیں سے تم لوگ اپنی مساجد میں خوشبو لگاتے ہو ۔ تھوک یا بلغم یا ناک کی آلائش نجس نہیں ہیں۔کپڑے میں لگ جایئں تو کپڑا پا ک رہتا ہے۔مگر نضافت کے بالکل خلاف ہے۔ مسجد اور دیگر محترم مقامات اور اشیاء کا انتہائی ادب واعزاز رکھنا واجب ہے۔