Book - حدیث 4847

كِتَابُ الْأَدَبِ بَابٌ فِي جُلُوسِ الرَّجُلِ حسن أَحْمَد بْن حَنْبَلٍ، حَدَّثَنَا حَفْصُ بْنُ عُمَرَ وَمُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ، قَالَا: حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ حَسَّانَ الْعَنْبَريُّ قَالَ حَدَّثَتْنِي جَدَّتَايَ صَفِيَّةُ وَدُحَيْبَةُ ابْنَتَا عُلَيْبَةَ قَالَ مُوسَى بِنْتِ حَرْمَلَةَ وَكَانَتَا رَبِيبَتَيْ قَيْلَةَ بِنْتِ مَخْرَمَةَ، وَكَانَتْ جَدَّةَ أَبِيهِمَا أَنَّهَا أَخْبَرَتْهُمَا أَنَّهَا رَأَتِ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ قَاعِدٌ الْقُرْفُصَاءَ فَلَمَّا رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْمُخْتَشِعَ- وَقَالَ مُوسَى: الْمُتَخَشِّعَ- فِي الْجِلْسَةِ, أُرْعِدْتُ مِنَ الْفَرَقِ.

ترجمہ Book - حدیث 4847

کتاب: آداب و اخلاق کا بیان باب: آدمی کے بیٹھنے کی بابت احکام و مسائل سیدہ قیلہ بنت مخرمہ ؓا سے روایت ہے کہ انہوں نے رسول اللہ ﷺ کو دیکھا کہ وہ «قرفصاء» کی صورت میں بیٹھے ہوئے تھے ( کہ ان کے گھٹنے سینے سے ملے ہوئے اور ہاتھ ان کے گرد لپٹے ہوئے تھے ) میں نے جب رسول اللہ ﷺ کو خشوع اور انکسار کی اس کیفیت میں دیکھا تو خوف سے لرز اٹھی ۔ احتبا ء اور قر فصاء یہاں دونوں کا مفہوم ایک ہی ہے یہ بیٹھنے کا ایک انداز ہے جسکی وضاحت ترجمے میں موجود ہے آدمی اس طرح سے کبھی مجلس میں بھی بیٹھ جاتا ہے۔ اس میں تواضع ، انکسار اور خشوع کا اظہار ہوتا ہے۔ مگرخطبہ جمعہ میں ا س طرح بیٹھنا ممنوع ہے۔ دیکھئے: (سنن ابی داؤد، الصلاۃ: حدیث 1110) 2) حضرت قیلہ رضی اللہ عنہ کا لرزہ براندام ہونا اس تاثر کی وجہ سے تھا کہ جب رسول اللہ ﷺ جیسی عظیم ہستی کا ظاہری بیٹھنا اس قدر خشوع اور انکسار کا مظہر ہے تو باطنی طور پر آپ ﷺ کی کیا کیفیت ہو گی اور ہم عام لوگ کس قدر بے پرواہ ہیں ۔ 3) اس حدیث سے یہ بھی اخذ کیا گیا کے کہ رسول اللہ ﷺ با وجود تواضع اور خشوع کے انتہا ئی بارعب اور ہیبت و دبدبہ والے تھے۔ اور یہ سب للہیت اور خشیت کا نتیجہ تھا۔ 4) ہر صاحبِ ایمان کو اپنی نشست و بر خاست میں تواضع کا انداز اختیار کرنا چاہیئے۔ اس سے وقار میں کوئی کمی نہیں آتی بلکہ اضافہ ہی ہوتا ہے۔ 5) مذکورہ دونوں روایات سندََا ضعیف ہیں لیکن دیگر شواہد کی بنا پر حسن یا صحیح درجے تک پہنچ جاتی ہیں جیسا کہ خود ہمارے فاضل محقق نے4846 نمبر حدیث کی تحقیق میں صحیح بخاری کا حوالہ ذکر کرنے کے بعد لکھا ہے کہ وہ یغنی عنہ یعنی بخاری کی روایت اس سے کفایت کرتی ہے۔ علاوہ ازیں شیخ البانی ؒ نےپہلی روایت کو صحیح اور دوسری کو حسن قرار دیا ہے۔ تفصیل کے لیئے دیکھئے: ( الصحیحة حديث: ٨٦٧ الترمذي حديث ٦٩٧٩)