Book - حدیث 4760

كِتَابُ السُّنَّةِ بَابٌ فِي قَتْلِ الْخَوَارِجِ صحیح حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ وَسُلَيْمَانُ بْنُ دَاوُدَ الْمَعْنَى، قَالَا: حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ عَنِ الْمُعَلَّى بْنِ زِيَادٍ وَهِشَامِ بْنِ حَسَّانَ عَنِ الْحَسَنِ، عَنْ ضَبَّةَ بْنِ مِحْصَنٍ، عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَتْ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: >سَتَكُونُ عَلَيْكُمْ أَئِمَّةٌ تَعْرِفُونَ مِنْهُمْ وَتُنْكِرُونَ، فَمَنْ أَنْكَرَ. قَالَ أَبُو دَاوُد: قَالَ هِشَامٌ بِلِسَانِهِ: فَقَدْ بَرِئَ، وَمَنْ كَرِهَ بِقَلْبِهِ, فَقَدْ سَلِمَ، وَلَكِنْ مَنْ رَضِيَ وَتَابَعَ<. فَقِيلَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ! أَفَلَا نَقْتُلُهُمْ؟ قَالَ ابْنُ دَاوُدَ أَفَلَا نُقَاتِلُهُمْ؟- قَالَ: >لَا, مَا صَلَّوْا<.

ترجمہ Book - حدیث 4760

کتاب: سنتوں کا بیان باب: خوارج کا بیان ام المؤمنین سیدہ ام سلمہ ؓا بیان کرتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ” تم پر ایسے امام ( امیر ) مقرر ہوں گے جن کی کچھ باتیں تمہیں بھلی لگیں گی اور کچھ بری بھی جانو گے ۔ تو جس نے انکار کیا ، بالفاظ ہشام ، اپنی زبان سے انکار کیا ‘ تو وہ بری ہوا ‘ اور جس نے دل سے انکار کیا وہ محفوظ رہا ‘ لیکن جو راضی رہا اور ان کا متبع بنا ۔ “ کہا گیا : اے اللہ کے رسول ! تو کیا ہم ان کو قتل نہ کریں ؟ آپ ﷺ نے فرمایا ” نہیں ‘ جب تک کہ وہ نماز پڑھتے رہیں ۔ “ امام ابوداؤد ؓ نے کہا : «أفلا نقاتلهم ؟» کیا ہم ان سے قتال نہ کریں ؟ نماز ایک ایسا عمل ہے اس کی پابندی انسان کے لئے بڑے سے بڑے گناہ سے بھی قتل وقتال سےرکاوٹ بن جاتی ہے ،سوائے اس کہ معروف حدودکا ارتکاب کرے ۔ 2 :اورایسے امراء جو نماز پڑھتے ہوں ان کے خلاف خروج (بغاوت) جائز نہیں ۔ نماز ترکر دیں تو مسئلہ اختلافی ہے۔ 3 :شرعی منکرات اور رعیت پرظلم کو آدمی قوت سے بدلنے پر قادر نہ ہو تو زبان سے یا کم از کم دل سے ان کو برا کہنا اور جاننا فرض ہے ورنہ ایمان نہیں ۔ 4 :ظالموں کے ظلم پر راضی رہنا اور ان کا معاون بننا دنیا اور آخرت کی ہلاکت کا باعث ہے ۔