Book - حدیث 4757

كِتَابُ السُّنَّةِ بَابٌ فِي الدَّجَّالِ صحیح حَدَّثَنَا مَخْلَدٌ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ سَالِمٍ، عَنْ أَبِيهِ, قَالَ: قَامَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي النَّاسِ، فَأَثْنَى عَلَى اللَّهِ بِمَا هُوَ أَهْلُهُ، فَذَكَرَ الدَّجَّالَ، فَقَالَ: >إِنِّي لَأُنْذِرُكُمُوهُ، وَمَا مِنْ نَبِيٍّ إِلَّا قَدْ أَنْذَرَهُ قَوْمَهُ, لَقَدْ أَنْذَرَهُ نُوحٌ قَوْمَهُ, وَلَكِنِّي سَأَقُولُ لَكُمْ فِيهِ قَوْلًا لَمْ يَقُلْهُ نَبِيٌّ لِقَوْمِهِ: تَعْلَمُونَ أَنَّهُ أَعْوَرُ، وَأَنَّ اللَّهَ لَيْسَ بِأَعْوَرَ<.

ترجمہ Book - حدیث 4757

کتاب: سنتوں کا بیان باب: دجال کا بیان جناب سالم اپنے والد ( سیدنا عبداللہ بن عمر ؓ ) سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ لوگوں کو خطبہ دینے کے لیے کھڑے ہوئے ۔ آپ ﷺ نے اللہ کی حمد و ثنا بیان کی جو اس کے لائق ہے ۔ پھر آپ ﷺ نے دجال کا ذکر کیا اور فرمایا ” میں تمہیں اس سے ڈرا رہا ہوں اور جو بھی نبی آیا ہے اس نے اپنی قوم کو اس سے ڈرایا ہے ‘ یقیناً نوح علیہ السلام نے بھی اپنی قوم کو اس سے ڈرایا تھا ، لیکن میں تمہیں اس کے بارے میں ایسی بات کہہ رہا ہوں جو کسی نبی نے اپنی قوم کو نہیں بتائی ۔ تم جان لو کہ وہ کانا ہے اور اللہ عزوجل قطعاً کانا نہیں ہے ۔ “ دجال کا لفظ دجل سے اسم مبالغہ ہے اور معنی ہیں قیامت سے پہلے ایک شخص ظاہر ہو گا جو مختلف شعبدہ بازیوں سے لوگوں کے ایمان پر حملہ آور ہو گا اور اپنی الوہیت کا دعوی کرے گا ۔ اس کا یہ فتنہ سب فتنوں سے بڑھ کر ہو گا ۔ اس کی ظاہر علامات اور اس کے اعمال کا بیان احادیثکی سب کتب میں موجود ہے ۔ آخر میں اس کا قتل سید نا حضرت عیسی ؑکے ہاتھوں سے ہو گا ۔ 1: وجال کا سب سے بڑا دجل اور فتنہ مختلف شعبدے دکھا کر اپنی الوہیت کا اقرارکرانا ہو گا ۔ 2 : اللہ عزوجل صفت عین (آنکھ ) سے وصوف ہے اور اس کی آنکھیں ہیں اور دجال کا عیب یہ بتایا گیا ہے کہ وہ داہنی آنکھ سے کانا ہو گا ۔وصف باری تعالی کی بابت قرآن مجید میں ہے : اللہ کے حکم کے مطابق صبر کیجیے۔ بلا شبہ آپ ہماری آنکھوں کے سامنے ہیں اللہ عزوجل کی تمام صفات پر ہم اہل السنتہ والجماعتہ کا ایمان ہے ،ہم ان کو کوئی تاویل نہیں کرتے ۔ ہم نہ ان کو معطل سمجھتے ہیں نہ انکار کرتے ہیں اور نہ تشبیہ دیتے ہیں ،بلکہ یہ ویسی ہی ہیں جیسی اس کی ذات والاشان کے لائق ہیں ان کی حقیقت کی ٹوہ میں لگنا اور ان کے متعلق سوال کرنا بدعت ہے ۔ اس لیے کہ ہماری عقل اور ادارک اس کو پا ہی نہیں سکتے ۔ ٹوہ لگانے سے محض پر یشان خیالی پیدا ہو گی۔