Book - حدیث 4734

كِتَابُ السُّنَّةِ بَابٌ فِي الْقُرْآنِ صحیح حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ كَثِيرٍ، أَخْبَرَنَا إِسْرَائِيلُ، حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ الْمُغِيرَةِ، عَنْ سَالِمٍ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَعْرِضُ نَفْسَهُ عَلَى النَّاسِ فِي الْمَوْقِفِ! فَقَالَ: >أَلَا رَجُلٌ يَحْمِلُنِي إِلَى قَوْمِهِ؟ فَإِنَّ قُرَيْشًا قَدْ مَنَعُونِي أَنْ أُبَلِّغَ كَلَامَ رَبِّي<.

ترجمہ Book - حدیث 4734

کتاب: سنتوں کا بیان باب: قران مجید کا بیان سیدنا جابر بن عبداللہ ؓ سے روایت ہے کہ ( ابتدائی بعثت کے دنوں میں ) رسول اللہ ﷺ میدان عرفات میں اپنے آپ کو لوگوں کے سامنے پیش کرتے تھے اور کہتے تھے : ” سنو ! کوئی مجھے اپنی قوم کی طرف لے جائے ‘ بلاشبہ قریش نے مجھے اپنے رب کا کلام پہنچانے سے روک دیا ہے ۔ “ للہ عزوجل صفت کلا م سے موصوف ہے جس کا رسول ؐ نے اپنی اولین دعوت میں اظہار فرمایا اور لوگوں نے بھی اسکے ظاہری معنی ہی سمجھے ۔ اس پر ہمارا ایمان ہے مگر کلام کرنے کی کیفیت سے ہم آگاہ نہیں اور قرآن مجید بھی اسی کا کلام ہے جو جبرائیل امین ؑلے کر آئے اور حضرت محمد رسول ؐ کے سینے میں اتارا ،مسلمان اسے پڑھتے ،یاد کرتے اور مصحف کے اوراق میں لکھتے ہیں ۔ 2 : اللہ تعالی کی ذات جس طرح قدیم ہے ،اسی طرح اس کی تمام صفات بھی قدیم ہیں ، بنا بریں قرآن مجید اللہ تعالی کا کلام ہے ،تو یہ بھی اس کی قدیم اور غیر حادث صفت ہوئی ۔ اسی لیے امام احمد بن حنبل اور دیگر محدثین ؒ اسے غیر مخلوق کہتے تھے اور معتزلہ اسے مخلوق قراردیتے تھے ۔ اس مسئلے میں امام احمد ؒ کی استقامت اور اس کی خاطر قیدوبند کی صعوبتیں برداشت کرنا ،مشہور معروف ہے ۔ 3 : عالم اسباب میں رسول ؐ کو بھی افراد کے تعاون کی ضرورت تھی جو اس تبلیغ حق میں آپ ؐ کے معاون بنتے جو بالا آخر مہاجرین وانصار کی صورت میں آپ کو مل گئے ۔ اسی طرح ہر داعی کی بھی ضرورت ہے ۔ سوسعادت مند ہیں وہ عظیم لو گ ہیں جو داعیان حق کے دست وبازوبنتے ہیں ۔ 4 : ظاہری اسباب کے مطابق ایک دوسرے سے مدد مانگنا نہ صرف جائز ہے بلکہ نیکی اور تقوی کے کاموں میں ایک دوسرے کی مدد کرنا فرض ہے اسی لیے نبی کریم ؐ نے بھی تبلیغ ودعوت کے کام میں لوگوں سے تعاون طلب کیا اور لوگوں نے بھی ان کے ساتھ تعاون کیا ۔ البتہ ماورائے اسباب طریقے سے کسی سے مدد طلب کرنا شرک ہے کیو نکہ اسطرح اللہ تعالئ کے سوا کوئی بھی مدد کرنے پر قادر نہیں ہے ۔