Book - حدیث 4732

كِتَابُ السُّنَّةِ بَابٌ فِي الرَّدِّ عَلَى الْجَهْمِيَّةِ صحیح حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ وَمُحَمَّدُ بْنُ الْعَلَاءِ أَنَّ أَبَا أُسَامَةَ أَخْبَرَهُمْ، عَنْ عُمَرَ بْنِ حَمْزَةَ، قَالَ: قَالَ سَالِمٌ: أَخْبَرَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: >يَطْوِي اللَّهُ السَّمَاوَاتِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ، ثُمَّ يَأْخُذُهُنَّ بِيَدِهِ الْيُمْنَى، ثُمَّ يَقُولُ: أَنَا الْمَلِكُ! أَيْنَ الْجَبَّارُونَ؟ أَيْنَ الْمُتَكَبِّرُونَ؟ ثُمَّ يَطْوِي الْأَرَضِينَ، ثُمَّ يَأْخُذُهُنَّ- قَالَ ابْنُ الْعَلَاءِ: بِيَدِهِ الْأُخْرَى- ثُمَّ يَقُولُ: >أَنَا الْمَلِكُ! أَيْنَ الْجَبَّارُونَ؟! أَيْنَ الْمُتَكَبِّرُونَ؟!<.

ترجمہ Book - حدیث 4732

کتاب: سنتوں کا بیان باب: جہمیہ کی تردید سیدنا عبداللہ بن عمر ؓ نے بیان کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ” قیامت کے دن اللہ تعالیٰ آسمانوں کو لپیٹ لے گا اور انہیں اپنے داہنے ہاتھ میں لے گا اور کہے گا : میں ہی بادشاہ ہوں ۔ کہاں ہیں جابر ؟ کہاں ہیں تکبر کرنے والے ؟ پھر زمینوں کو لپیٹ لے گا اور انہیں پکڑے گا ۔ ابن العلاء نے کہا : انہیں دوسرے ہاتھ میں پکڑے گا اور فرمائے گا : میں ہی بادشاہ ہوں ۔ کہاں ہیں جابر ؟ کہاں ہیں تکبر کرنے والے ؟ “ اللہ عزوجل کی صفات میں وارد الفاظ واضح اور صریح ہیں ، ہم انہیں اپنے رب تعالی کے حق میں بلا جھجک استعمال کرسکتے ہیں اور کرتے ہیں لیکن ان کی حقیقت کا ہمیں کوئی ادراک نہیں کیونکہ (لیس کمثلہ شئی وھوالسمیع البصیر )(الشوری ) 2 :اللہ کے دو ہاتھ ہیں اور دونوں ہی داہنے ہیں اور اللہ تعالی کلام کرنے سے موصوف ہے ۔ 3 :حقیقی بادشاہ تو اب بھی اللہ عزوجل ہی ہے ،مگر دنیا میں نام کے بادشاہ موجود ہیں اورا ن میں جبار اور متکبر بھی ہیں لیکن محشر میں کسی کا کوئی وجود نہیں ہو گا اور بادشاہت صرف ایک اکیلے اللہ کی ہوگی ۔