Book - حدیث 4730

كِتَابُ السُّنَّةِ بَابٌ فِي الرُّؤْيَةِ صحیح - حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ سُهَيْلِ بْنِ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ أَبِيهِ, أَنَّهُ سَمِعَهُ يُحَدِّثُ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: قَالَ نَاسٌ: يَا رَسُولَ اللَّهِ! أَنَرَى رَبَّنَا يَوْمَ الْقِيَامَةِ؟ قَالَ: >هَلْ تُضَارُّونَ فِي رُؤْيَةِ الشَّمْسِ فِي الظَّهِيرَةِ لَيْسَتْ فِي سَحَابَةٍ؟<. قَالُوا: لَا، قَالَ: >هَلْ تُضَارُّونَ فِي رُؤْيَةِ الْقَمَرِ لَيْلَةَ الْبَدْرِ لَيْسَ فِي سَحَابَةٍ؟<، قَالُوا: لَا، قَالَ: >وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ لَا تُضَارُّونَ فِي رُؤْيَتِهِ إِلَّا كَمَا تُضَارُّونَ فِي رُؤْيَةِ أَحَدِهِمَا<.

ترجمہ Book - حدیث 4730

کتاب: سنتوں کا بیان باب: دیدار الہیٰ کا بیان سیدنا ابوہریرہ ؓ نے بیان کیا کہ لوگوں نے پوچھا : اے اللہ کے رسول ! کیا قیامت کے روز ہم اپنے رب عزوجل کو دیکھیں گے ؟ آپ ﷺ نے فرمایا ” بھلا عین دوپہر کے وقت ‘ جب فضا میں کوئی بادل وغیرہ نہ ہو ‘ تمہیں سورج کے دیکھنے میں کوئی الجھن یا مشکل ہوتی ہے ؟ “ انہوں نے کہا : نہیں ۔ آپ ﷺ نے فرمایا ” کیا تمہیں چودھویں کی رات میں ‘ جب کوئی بادل وغیرہ نہ ہو ‘ چاند کے دیکھنے میں کوئی دقت ہوتی ہے ؟ “ انہوں نے کہا : نہیں ۔ آپ ﷺ نے فرمایا ” قسم اس ذات کی جس کے ہاتھ میں میری جان ہے ! تمہیں اس کے دیکھنے میں کوئی دقت اور مشکل نہیں ہو گی مگر اتنی ہی جتنی چاند یا سورج کے دیکھنے میں ہوتی ہے ۔ “ ( کوئی مشکل نہیں ہو گی ) ۔ سورج کے دیکھنے سے مراد محض دیکھنا ہے ٹکٹکی لگا کر مسلسل اسی طرف دیکھتے ہی رہنا نہیں ۔