Book - حدیث 4723

كِتَابُ السُّنَّةِ بَابٌ فِي الْجَهْمِيَّةِ ضعیف حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الصَّبَّاحِ الْبَزَّازُ، حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ بْنُ أَبِي ثَوْرٍ، عَنْ سِمَاكٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمِيرَةَ عَنِ الْأَحْنَفِ بْنِ قَيْسٍ عَنِ الْعَبَّاسِ بْنِ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ، قَالَ: كُنْتُ فِي الْبَطْحَاءِ فِي عِصَابَةٍ فِيهِمْ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَمَرَّتْ بِهِمْ سَحَابَةٌ، فَنَظَرَ إِلَيْهَا، فَقَالَ: >مَا تُسَمُّونَ هَذِهِ؟!<، قَالُوا: السَّحَابَ، قَالَ: >وَالْمُزْنَ؟< قَالُوا: وَالْمُزْنَ، قَالَ: >وَالْعَنَانَ؟< قَالُوا: وَالْعَنَانَ.- قَالَ أَبُو دَاوُد: لَمْ أُتْقِنِ الْعَنَانَ جَيِّدًا، قَالَ:- >هَلْ تَدْرُونَ مَا بُعْدُ مَا بَيْنَ السَّمَاءِ وَالْأَرْضِ؟<، قَالُوا: لَا نَدْرِي! قَالَ: >إِنَّ بُعْدَ مَا بَيْنَهُمَا إِمَّا وَاحِدَةٌ أَوِ اثْنَتَانِ أَوْ ثَلَاثٌ وَسَبْعُونَ سَنَةً، ثُمَّ السَّمَاءُ فَوْقَهَا كَذَلِكَ- حَتَّى عَدَّ سَبْعَ سَمَاوَاتٍ-، ثُمَّ فَوْقَ السَّابِعَةِ بَحْرٌ بَيْنَ أَسْفَلِهِ وَأَعْلَاهُ, مِثْلُ مَا بَيْنَ سَمَاءٍ إِلَى سَمَاءٍ، ثُمَّ فَوْقَ ذَلِكَ ثَمَانِيَةُ أَوْعَالٍ, بَيْنَ أَظْلَافِهِمْ وَرُكَبِهِمْ مِثْلُ مَا بَيْنَ سَمَاءٍ إِلَى سَمَاءٍ، ثُمَّ عَلَى ظُهُورِهِمُ الْعَرْشُ، مَا بَيْنَ أَسْفَلِهِ وَأَعْلَاهُ مِثْلُ مَا بَيْنَ سَمَاءٍ إِلَى سَمَاءٍ، ثُمَّ اللَّهُ تَبَارَكَ وَتَعَالَى فَوْقَ ذَلِكَ<.

ترجمہ Book - حدیث 4723

کتاب: سنتوں کا بیان باب: جہمیہ کا بیان سیدنا عباس بن عبدالمطلب ؓ سے روایت ہے کہتے ہیں کہ میں وادی بطحاء میں ایک جماعت میں بیٹھا ہوا تھا جس میں رسول اللہ ﷺ بھی تشریف فر تھے ، وہاں سے بادل کا ایک ٹکڑا گزرا ۔ آپ ﷺ نے اس کی طرف دیکھا اور پوچھا ” تم لوگ اسے کیا کہتے ہو ؟“ انہوں نے کہا : «سحاب» آپ ﷺ نے فرمایا ” اور «مزن» بھی ؟ “ انہوں نے کہا : ہاں «مزن» بھی ۔ آپ ﷺ نے فرمایا ” اور «عنان» بھی کہتے ہو ؟ “ انہوں نے کہا : ہاں «عنان» بھی کہتے ہیں ۔ امام ابوداؤد ؓ کہتے ہیں مجھے «العنان» کا ذکر کوئی زیادہ اچھی طرح یاد نہیں ہے ، آپ ﷺ نے فرمایا ” کیا جانتے ہو آسمان اور زمین میں کتنا فاصلہ ہے ؟ “ انہوں نے کہا : ہمیں معلوم نہیں ۔ آپ ﷺ نے فرمایا ” ان دونوں کے درمیان اکہتر یا بہتر یا تہتر سال کا فاصلہ ہے ۔ پھر اس کے بعد دوسرے آسمان کا بھی اتنا ہی فاصلہ ہے ۔ “ حتیٰ کہ آپ نے سات آسمان شمار کیے ۔ پھر فرمایا ” ساتویں کے اوپر سمندر ہے جس کی گہرائی اور اونچائی اس قدر ہے جیسے ایک آسمان سے دوسرے آسمان تک ، پھر اس کے اوپر آٹھ بکرے ہیں جن کے کھروں اور گھٹنوں کے درمیان اس قدر فاصلہ ہے جیسے ایک آسمان سے دوسرے آسمان تک ، پھر ان کی پشتوں پر عرش ہے ، جس کی تہہ اور اونچائی میں اتنا ہی فاصلہ ہے جیسے ایک آسمان سے دوسرے آسمان تک ۔ پھر اس سے اوپر اللہ تبارک و تعالیٰ ہے ۔“