Book - حدیث 4717

كِتَابُ السُّنَّةِ بَابٌ فِي ذَرَارِيِّ الْمُشْرِكِينَ صحیح حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ مُوسَى الرَّازِيُّ، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي زَائِدَةَ، قَالَ: حَدَّثَنِي أَبِي، عَنْ عَامِرٍ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: >الْوَائِدَةُ وَالْمَوْءُودَةُ فِي النَّارِ< قَالَ يَحْيَى بْنُ زَكَرِيَّا قَالَ أَبِي فَحَدَّثَنِي أَبُو إِسْحَاقَ أَنَّ عَامِرًا حَدَّثَهُ بِذَلِكَ، عَنْ عَلْقَمَةَ عَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ.

ترجمہ Book - حدیث 4717

کتاب: سنتوں کا بیان باب: مشرکوں کی اولاد کا بیان جناب عامر شعبی ؓ نے بیان کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ” بچے کو زندہ دفن کرنے والی اور زندہ دفن ہونے والی ( دونوں ) آگ میں ہیں ۔ “ یحییٰ بن زکریا نے کہا : میرے والد نے کہا کہ مجھے ابواسحاق نے بیان کیا کہ عامر نے اس کو یہ حدیث بواسطہ علقمہ ، سیدنا ابن مسعود ؓ سے انہوں نے نبی کریم ﷺ سے بیان کی تھی ۔ جس کو کم سنی میں ظلما دفن کر دیا گیا وہ جہنم کی مستحق نہیں ہو سکتی ۔ حضرت ابن عباس رضی اللہ نے وضاحت سے کہا ہے کہ وہ موودہ کے جہنمی ہونے کا نظریہ درست نہیں ۔ انہوں نے فرمایاآیت(ما كنا معذبين حتي نبعث رسول)(بني اسرائيل :١٥) كے مطابق عاقل وبالغ کو اگر اسے دعوت نہ پہنچی ہو عذاب نہیں دیا جا سکتا تو غیر عاقل کو کیسے دیا جا سکتا ہے ۔ پہلے وضاحت ہو چکی ہے کہ مشرکین کی اولاد کو بھی عذاب نہ ہو گا ۔ حدیث١٤٧١٧ ایک طویل حدیث کا حصہ ہے۔ اصل حدیث کا ایک حصہ ہے ۔اصل حدیث میں تفصٰل ہے کہ سلمہ بن بزید جعفی اور ان کے بھائی رسول ؐ کی خدمت میں حاضر ہوئے اورعرض کی کہ ہماری والدہ ملیکہ(جو جاہلیت میں مر گئیں )اچھی خاتون تھیں ،صلہ رحمی اور مہمان نوازی کرنے والی تھیں ،کیا ا ن باتوں کا ان کی والدہ کو فائدہ ہو گا ؟آپ ؐ نے فرمایا نہیں ، انہوں نے پوچھا ہماری ماں نے ہماری ایک بہن کو زندہ دگن کردیا تھا ،کیا اسے کوئی فائد ہ ہو گا ؟آپ ؐ نے فرمایا : (یہ ) زندہ دفن کرنے والی اور زندہ دفن ہونےھ والی دونوں آگ میں ہیں ۔گویا آپ کا جواب ایک خاص موودہ کے بارے میں تھا ۔ یہ عام حکم نہ تھا غالبا یہ موودہ کفر کے عالم میں ہی بالغ ہو چکی تھی ۔