Book - حدیث 4702

كِتَابُ السُّنَّةِ بَابٌ فِي الْقَدَرِ حسن حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ صَالِحٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ قَالَ، أَخْبَرَنِي هِشَامُ بْنُ سَعْدٍ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ، عَنْ أَبِيهِ أَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: >إِنَّ مُوسَى قَالَ: يَا رَبِّ! أَرِنَا آدَمَ الَّذِي أَخْرَجَنَا وَنَفْسَهُ مِنَ الْجَنَّةِ! فَأَرَاهُ اللَّهُ آدَمَ؟ فَقَالَ: أَنْتَ أَبُونَا آدَمُ؟ فَقَالَ لَهُ آدَمُ: نَعَمْ، قَالَ: أَنْتَ الَّذِي نَفَخَ اللَّهُ فِيكَ مِنْ رُوحِهِ، وَعَلَّمَكَ الْأَسْمَاءَ كُلَّهَا، وَأَمَرَ الْمَلَائِكَةَ فَسَجَدُوا لَكَ؟ قَالَ: نَعَمْ، قَالَ: فَمَا حَمَلَكَ عَلَى أَنْ أَخْرَجْتَنَا وَنَفْسَكَ مِنَ الْجَنَّةِ؟ فَقَالَ لَهُ آدَمُ: وَمَنْ أَنْتَ؟ قَالَ: أَنَا مُوسَى، قَالَ: أَنْتَ نَبِيُّ بَنِي إِسْرَائِيلَ, الَّذِي كَلَّمَكَ اللَّهُ مِنْ وَرَاءِ الْحِجَابِ، لَمْ يَجْعَلْ بَيْنَكَ وَبَيْنَهُ رَسُولًا مِنْ خَلْقِهِ؟ قَالَ: نَعَمْ، قَالَ: أَفَمَا وَجَدْتَ أَنَّ ذَلِكَ كَانَ فِي كِتَابِ اللَّهِ، قَبْلَ أَنْ أُخْلَقَ؟ قَالَ: نَعَمْ، قَالَ: فِيمَ تَلُومُنِي فِي شَيْءٍ سَبَقَ مِنَ اللَّهِ تَعَالَى فِيهِ الْقَضَاءُ قَبْلِي؟!<. قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عِنْدَ ذَلِكَ: >فَحَجَّ آدَمُ مُوسَى، فَحَجَّ آدَمُ مُوسَى

ترجمہ Book - حدیث 4702

کتاب: سنتوں کا بیان باب: تقدیر کا بیان سیدنا عمر بن خطاب ؓ سے مروی ہے کہ کسی کو واسطہ نہیں بنایا تھا ؟ کہا : ہاں ۔ آدم علیہ السلام نے کہا : کیا تم نے نہیں پایا کہ یہ سب کچھ میرے پیدا کیے جانے سے پہلے ہی کتاب اللہ میں ( ایسے ہی ) تھا ؟ موسیٰ علیہ السلام نے کہا : ہاں ۔ آدم علیہ السلام نے کہا : تو پھر تم مجھے کس چیز پر ملامت کرتے ہو ، حالانکہ وہ مجھ سے پہلے ہی اللہ کے فیصلے میں تھی ۔ “ اس پر رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ” آدم علیہ السلام موسیٰ علیہ السلام پر دلیل میں غالب آ گئے ۔ “ تقدیر یعنی اللہ عزوجل کا ازلی اور ابدی علم عین برحق ہے ،کہیں بھی اس سے ذرہ برابر کچھ مختلف نہیں ہو سکتا ،مگر علم بندوں کو مجبور نہیں کرتا ۔ انسانوں کے لئے جائز نہیں کہ اپنے آئندہ امور میں تقدیرکو بطور عذراور بہانہ پیش کریں ،کیونکہ ہر ایک کو صحیح راہ کا اختیار کرنے اور اس کے مطابق عمل کرنے کا مکلف بنایا گیا ہے ،لیکن ماضی کے حقائق میں تقدیر کا بیان بطور عذر ،مباح ہے