Book - حدیث 4694

كِتَابُ السُّنَّةِ بَابٌ فِي الْقَدَرِ صحیح حَدَّثَنَا مُسَدَّدُ بْنُ مُسَرْهَدٍ، حَدَّثَنَا الْمُعْتَمِرُ، قَالَ: سَمِعْتُ مَنْصُورَ بْنَ الْمُعْتَمِرِ يُحَدِّثُ، عَنْ سَعْدِ بْنِ عُبَيْدَةَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ حَبِيبٍ أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ السُّلَمِيِّ، عَنْ عَلِيٍّ- عَلَيْهِ السَّلَام-، قَالَ: كُنَّا فِي جَنَازَةٍ فِيهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِبَقِيعِ الْغَرْقَدِ، فَجَاءَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَجَلَسَ وَمَعَهُ مِخْصَرَةٌ، فَجَعَلَ يَنْكُتُ بِالْمِخْصَرَةِ فِي الْأَرْضِ، ثُمَّ رَفَعَ رَأْسَهُ، فَقَالَ: >مَا مِنْكُمْ مِنْ أَحَدٍ مَا مِنْ نَفْسٍ مَنْفُوسَةٍ, إِلَّا كَتَبَ اللَّهُ مَكَانَهَا مِنَ النَّارِ، أَوْ مِنَ الْجَنَّةِ, إِلَّا قَدْ كُتِبَتْ: شَقِيَّةً أَوْ سَعِيدَةً<. قَالَ: فَقَالَ رَجُلٌ مِنَ الْقَوْمِ: يَا نَبِيَّ اللَّهِ! أَفَلَا نَمْكُثُ عَلَى كِتَابِنَا وَنَدَعُ الْعَمَلَ, فَمَنْ كَانَ مِنْ أَهْلِ السَّعَادَةِ، لَيَكُونَنَّ إِلَى السَّعَادَةِ وَمَنْ كَانَ مِنْ أَهْلِ الشِّقْوَةِ لَيَكُونَنَّ إِلَى الشِّقْوَةِ؟! قَالَ: >اعْمَلُوا, فَكُلٌّ مُيَسَّرٌ, أَمَّا أَهْلُ السَّعَادَةِ, فَيُيَسَّرُونَ لِلسَّعَادَةِ، وَأَمَّا أَهْلُ الشِّقْوَةِ, فَيُيَسَّرُونَ لِلشِّقْوَةِ<. ثُمَّ قَالَ نَبِيُّ اللَّهِ: >{فَأَمَّا مَنْ أَعْطَى وَاتَّقَى وَصَدَّقَ بِالْحُسْنَى فَسَنُيَسِّرُهُ لِلْيُسْرَى وَأَمَّا مَنْ بَخِلَ وَاسْتَغْنَى وَكَذَّبَ بِالْحُسْنَى فَسَنُيَسِّرُهُ لِلْعُسْرَى}[الليل: 5-10]<.

ترجمہ Book - حدیث 4694

کتاب: سنتوں کا بیان باب: تقدیر کا بیان سیدنا علی ؓ سے روایت ہے کہ جس نے ( اﷲ کے لیے مال ) دیا اور تقٰوی اختیار کیا اور نیکی کی تصدیق کی ، ہم اسے آسان منزل کی توفیق دیتے ہیں ۔ اور جس نے بخل کیا اور بے پروا بنا رہا اور نیکی کو جھٹلایا ، تو ہم اسے تنگی والی منزل کی توفیق دیتے ہیں ۔ “ تقدیر اللہ عز وجل کے ازلی وابدی علم کا نام ہے اور ہرشخص کے بارےمیں ریکارڈ ہو چکا ہے کہ کو ن کہاں جانے والا ہے ،جنت میں یا دوزخ میں ۔ اللہ عزوجل کا یہ علم ازلی غلط نہیں ہوسکتا ۔ وہ علیم وخبیر ہےاس کے علم میں ذرہ برابر بھی کمی نہیں ۔ مگر کوئی اس مستقبل کے ریکارڈ کو اپنے لئے عذربنا لے ۔۔۔۔۔ حالانکہ اس کو خبر نہیں کہ کیا لکھا ہے تو یہ لغومحض ہے ،تعجب ہے کہ لوگ شرعی تکلیفات میں تقدیر کو بہانہ بناتے ہیں مگر اپنی ہواوہوس کے معاملات میں سر توڑ محنت اور کوشش کرتے ہیں اور ان سے باز نہیں رہتے ۔ آخرت کے انجام کے سلسلے میں اس دنیا میں ایک علامت ضرور رکھی دی گئی ہے کہ نیکی کا عزم رکھنے والے اور اس میں محنت کرنے والے نیکی کے احوال وظروف کی تائید ملتی رہتی ہے۔ ایسے شخص کے بارے میں امید کرنی چاہیےکہ اس کی عاقبت بھی بفضل اللہ عمدہ ہو گی ۔ اور جو شخص بد عملی میں ملوث اور اس کے لئے سر گردان ہو اسے انہی مقاصد کے لئے احوال کی تائید مہیا ہو جاتی ہے ۔ باوجودیکہ سب کچھ پہلے سے ریکارڈ کر لیا گیا ہے لیکن انسان خود اس کے متعلق بابکل بے خبر ہے وہ اپنی مرضی سے اپنی راہ خود چنتا ہے اور خود اس پر چلتا ہے ۔ اب یہ اس کا اپنا فیصلہ اوراختیار ہے کہ وہ کونسی راہ اپناتا ہے ۔ اللہ تعالی نے فر مایا ہم نےانسان کو رستے کی رہنمائی کردی ہے خواہشکر گزار بن جائے یا نا شکر ا اور فرمایا ہم نے انسان کو ادھر ہی پھیر دیتے ہیں ہیں جد ھر کا رخ کرتا ہے