Book - حدیث 4678

كِتَابُ السُّنَّةِ بَابٌ فِي رَدِّ الْإِرْجَاءِ صحیح حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ حَنْبَلٍ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ، عَنْ جَابِرٍ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: >بَيْنَ الْعَبْدِ وَبَيْنَ الْكُفْرِ تَرْكُ الصَّلَاةِ<.

ترجمہ Book - حدیث 4678

کتاب: سنتوں کا بیان باب: مرجئہ کی تردید سیدنا جابر ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ” بندے اور کفر کے درمیان فرق نماز چھوڑ دینا ہے ۔ “ معلوم ہوا کہ عمل ایمان کا حصہ ہے ،علامہ خطابی ؒ نے لکھا ہے کہ نماز چھوڑنے کی تین صورتیں ہیں : 1 :مطلقا نماز کا انکار کرنا،یعنی یہ سمجھنا کہ دین کا کوئی حصہ نہیں ، یہ عقیدہ اجماعی طور پر صریح کفر ہے بلکہ اس طرح سے دین میں ثابت کسی بھی چیز کا انکار کفر ہے ۔ 2 :غفلت اور بھول سے نماز چھوڑ دینا ،آدمی بہ اجماع امت کا فر نہیں ۔ عمدنماز چھوڑے رہنا مگر انکار بھی نہ کرنا ،ایسے شخص کے بارے میں ائمہ کا ختلاف ہے ۔ ابراہیم نخعی ،ابن مبارک ،احمد بن حنبل اوراسحاق بن راہویہ کا یہ قول ہے کہ بلا ناغہ عمداتارک صلاۃحتی کہ اس کا وقت نکل جائے ،کافر ہے ۔ امام احمد کا کہناہے کہ ہم تارک صلاۃکے سوا کسی کو کسی گناہ پر کافر نہیں کہتے ۔ زیادہ سخت موقف امام مکحول اور امام شافعی کا ہے کہ تارک صلاۃکو اسی طرح قتل کیا جائے جیسے کا فر کو کیا جاتاہےلیکن اس سبب سے وہ ملت سے خارج نہیں ہوتا۔ مسلمانوں کے قبرستان میں دفن ہو گا ۔ اس کے اہل اس وارث ہوں گے ۔امام شافعی ؒؒ کے کئی اصحاب نے کہا کہ اس کا جنازہ نہ پڑھاجائے ۔ امام ابو حنیفہ ؒ اور ان کے اصحاب کا کہنا ہے کہ تارک صلاۃ کو قید کیا جائےاور جسمانی سزا دی جائے حتی کہ وہ نماز پڑھنےلگے ۔