Book - حدیث 4654

كِتَابُ السُّنَّةِ بَابٌ فِي الْخُلَفَاءِ حسن صحيح حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ح، وحَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ سِنَانٍ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ، أَخْبَرَنَا حَمَّادُ ابْنُ سَلَمَةَ، عَنْ عَاصِمٍ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: قَالَ مُوسَى >فَلَعَلَّ اللَّهَ: وَقَالَ ابْنُ سِنَانٍ اطَّلَعَ اللَّهُ عَلَى أَهْلِ بَدْرٍ، فَقَالَ: اعْمَلُوا مَا شِئْتُمْ فَقَدْ غَفَرْتُ لَكُمْ

ترجمہ Book - حدیث 4654

کتاب: سنتوں کا بیان باب: خلفاء کا بیان سیدنا ابوہریرہ ؓ نے بیان کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ” شاید کہ اللہ تعالیٰ نے اہل بدر پر نظر فرمائی ہے اور کہا ہے کہ جو چاہے عمل کرو میں نے تمہیں بخش دیا ہے ۔ “ ۔جب دین کی سر بلندی کے لیے یہ لوگ خود کو قربان کرنے پر تل گئے تو ان کو اخلاص اور ایمان کا اعلی ترین معیار حاصل ہوگیا۔اس لیے ان کو ایسی عظیم خوشخبری دی گئی ۔ان کا یہ عظیم عمل ان کے باقی تمام اعمال سے چاہے وہ مثبت ہوں یا منفی بہت بڑا تھا۔ 2۔حدیث میں مذکورہ فرمان کا یہ مفہوم ہرگز نہیں تھا کہ وہ شرعی اور اخلاقی حدود وقیود سے مبرا ہوگئے تھے۔نہیں بلکہ اس بیان میں ان کے متعلق اللہ تعالی کی طرف سے یہ خبر صادق ہے کہ یہ لوگ تا حیات دین وشریعت کے تقاضے پورے کرتے رہیں گےاور ان سے کوئی ایسا عمل سرزد نہیں ہوگا جو ان کے لیے اللہ عزوجل کی ناراضی یا جہنم میں جانے کا باعث ہو اس میں ان کے معصوم عن الخطا ہونے کا مفہوم نہیں ہے بلکہ بشارت ہے کہ ان کی تمام تقصیرات معاف کردی جائیں گی۔رضی اللہ عنہم ۔توحیف ہے ان لوگوں پر جو ان کی اجتہادی خطاؤں کو نمایاں کرتے اور ان پر طعن و تشنیع کرنا اور تاریخ کی خدمت سمجھتے ہیں۔فان لله وانا اليه راجعون۔