Book - حدیث 4644

كِتَابُ السُّنَّةِ بَابٌ فِي الْخُلَفَاءِ صحیح حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا ابْنُ إِدْرِيسَ، عَنْ الْأَعْمَشِ، قَالَ: سَمِعْتُ الْحَجَّاجَ, يَقُولُ عَلَى الْمِنْبَرِ: هَذِهِ الْحَمْرَاءُ هَبْرٌ هَبْرٌ، أَمَا وَاللَّهِ لَوْ قَدْ قَرَعْتُ عَصًا بِعَصًا، لَأَذَرَنَّهُمْ كَالْأَمْسِ الذَّاهِبِ.- يَعْنِي: الْمَوَالِيَ

ترجمہ Book - حدیث 4644

کتاب: سنتوں کا بیان باب: خلفاء کا بیان میں نے حجاج سے سنا وہ منبر پر کھڑا کہہ رہا تھا : یہ عجمی کاٹ ڈالے جانے کے لائق ہیں ۔ اللہ کی قسم ! میں نے اگر لاٹھی کو لاٹھی پر مارا تو ان لوگوں کو ماضی کی مانند کر چھوڑوں گا ( نیست و نابود کر دوں گا ) ۔ اس کا اشارہ غیر عرب لوگوں کی طرف تھا ۔ لاٹھی کو لاٹھی پر مارا یعنی ان کا قلع قمع کرنے کا ارادہ کیا تو۔۔۔۔اس سے پتا چلتا ہے کہ دین کے بجائے عربوں کی قومی عصبیت پر اس کا ایمان تھا۔ فوائد ومسائل بنوزرقاء سے مراد بنو مروان ہیں زرقاء ان کے نسب میں آتی ہے جس کی یہ اولاد ہیں۔