Book - حدیث 462

كِتَابُ الصَّلَاةِ بَابُ فِي اعْتِزَالِ النِّسَاءِ فِي الْمَسَاجِدِ عَنْ الرِّجَالِ صحیح حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَمْرٍو وَأَبُو مَعْمَرٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَارِثِ، حَدَّثَنَا أَيُّوبُ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ >لَوْ تَرَكْنَا هَذَا الْبَابَ لِلنِّسَاءِ<.قَالَ: نَافِعٌ فَلَمْ يَدْخُلْ مِنْهُ ابْنُ عُمَرَ حَتَّى مَاتَ. وَقَالَ غَيْرُ عَبْدِ الْوَارِثِ قَالَ عُمَرُ وَهُوَ أَصَحُّ.

ترجمہ Book - حدیث 462

کتاب: نماز کے احکام ومسائل باب: مسجد میں عورتوں کا مردوں سے علیحدہ رہنا سیدنا ابن عمر ؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ” اگر ہم یہ دروازہ عورتوں کے لیے چھوڑ دیں ۔“ ( اور مرد اس سے داخل نہ ہوں تو بہت بہتر ہو ) ۔ نافع کہتے ہیں کہ ( یہ ارشاد سننے کے بعد ) ابن عمر ؓ مرتے دم تک کبھی اس دروازے سے مسجد میں نہیں آئے ۔ عبدالوارث کے علاوہ دیگر راویوں نے اسے سیدنا عمر ؓ کا قول بیان کیا ہے اور یہ زیادہ صحیح ہے ۔ 1۔ظاہر ہے کہ جب مسجد جیسے پاکیزہ مقام و ماحول میں بھی عورتوں اور مردوں کے اختلاط کی اجازت نہیں ہے تو دیگر مقامات اور مواقع پر اور زیادہ احتیاط کی ضرورت ہے۔ 2۔ صاحب عون المعبود لکھتے ہیں کہ یہ حدیث مرفوع اور موقوف دونوں طرح ہوسکتی ہے۔عبد الوارث ثقہ ہیں۔ اور ان کی زیادت قابل قبول ہے۔