Book - حدیث 456

كِتَابُ الصَّلَاةِ بَابُ اتِّخَاذِ الْمَسَاجِدِ فِي الدُّورِ صحیح حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ دَاوُدَ بْنِ سُفْيَانَ حَدَّثَنَا يَحْيَى يَعْنِي ابْنَ حَسَّانَ حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ مُوسَى حَدَّثَنَا جَعْفَرُ بْنُ سَعْدِ بْنِ سَمُرَةَ حَدَّثَنِي خُبَيْبُ بْنُ سُلَيْمَانَ عَنْ أَبِيهِ سُلَيْمَانَ بْنِ سَمُرَةَ عَنْ أَبِيهِ سَمُرَةَ أَنَّهُ كَتَبَ إِلَى ابْنِهِ أَمَّا بَعْدُ فَإِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَأْمُرُنَا بِالْمَسَاجِدِ أَنْ نَصْنَعَهَا فِي دِيَارِنَا وَنُصْلِحَ صَنْعَتَهَا وَنُطَهِّرَهَا

ترجمہ Book - حدیث 456

کتاب: نماز کے احکام ومسائل باب: محلوں میں مساجد بنانے کا بیان جناب سلیمان بن سمرہ اپنے والد سیدنا سمرہ ؓ ( سمرہ بن جندب ) سے روایت کرتے ہیں کہ سیدنا سمرہ ؓ نے اپنے بیٹوں کی طرف لکھا تھا کہ رسول اللہ ﷺ ہمیں تعمیر مساجد کا حکم دیا کرتے تھے کہ محلے میں ان کی تعمیر کریں اور ان کی عمارت عمدہ بنائیں اور انہیں پاکیزہ رکھیں ۔ (1)ان احادیث میں لفظ (دُور) سےمراد’’ محلے ،، ہیں جوکہ ’’ دار ،، کی جمع ہے۔جیسے کہ قرآن مجید میں آیا ہے: (سأوریکم دارالفاسقین) (الاعراف : 145) ’’ میں عنقریب تمہیں فاسقوں کےگھر (منازل) دگھاؤں گا۔،، اور جس جگہ میں قبیلے کے گئی گھر آباد اورجمع ہوں اسے ’’دار،، کہتے ہیں۔چنانچہ ایک روایت میں آیا ہے کہ اس حکم کےبعد( مابقیت دار الا بنی فیھا مسجد) ’’ہرہر محلےمیں مسجدیں بن گئیں ۔،، اور ظاہر ہےکہ جماعت کی فضیلت حاصل کرسکتے ہیں۔اسی لفظ (دُور) کےدوسرے معنی’’ہرہر گھر،، بھی ہوسکتے ہیں۔یعنی ہرگھر میں نماز کےلیے جگہ خاص ہونی چاہیے اوراسے پاک صاف رکھاجائے تاکہ گھر کےافراد وہاں نماز پڑھ سکیں، مگر محدثین کےہاں پہلے معنی ہی راجح ہیں۔ (2) مساجد کاادب یہ ہے کہ ان کی تعمیر غلو سےپاک ،خوش منظر ،وسیع اور روشن ہواور اسے ظاہر اورباطن ہرلحاظ سےپاک صاف رکھا جائے ۔بخلاف دیگر مذاہب کےمعاہدکےکہ ان میں یہ اہتمام کم ہی ہوتا ہے، مثلا ہندؤں کے مندر وغیرہ۔