Book - حدیث 4499

كِتَابُ الدِّيَاتِ بَابُ الْإِمَامِ يَأْمُرُ بِالْعَفْوِ فِي الدَّمِ صحیح حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ بْنِ مَيْسَرَةَ الْجُشَمِيُّ حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ عَنْ عَوْفٍ حَدَّثَنَا حَمْزَةُ أَبُو عُمَرَ الْعَائِذِيُّ حَدَّثَنِي عَلْقَمَةُ بْنُ وَائِلٍ حَدَّثَنِي وَائِلُ بْنُ حُجْرٍ قَالَ كُنْتُ عِنْدَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذْ جِيءَ بِرَجُلٍ قَاتِلٍ فِي عُنُقِهِ النِّسْعَةُ قَالَ فَدَعَا وَلِيَّ الْمَقْتُولِ فَقَالَ أَتَعْفُو قَالَ لَا قَالَ أَفَتَأْخُذُ الدِّيَةَ قَالَ لَا قَالَ أَفَتَقْتُلُ قَالَ نَعَمْ قَالَ اذْهَبْ بِهِ فَلَمَّا وَلَّى قَالَ أَتَعْفُو قَالَ لَا قَالَ أَفَتَأْخُذُ الدِّيَةَ قَالَ لَا قَالَ أَفَتَقْتُلُ قَالَ نَعَمْ قَالَ اذْهَبْ بِهِ فَلَمَّا كَانَ فِي الرَّابِعَةِ قَالَ أَمَا إِنَّكَ إِنْ عَفَوْتَ عَنْهُ يَبُوءُ بِإِثْمِهِ وَإِثْمِ صَاحِبِهِ قَالَ فَعَفَا عَنْهُ قَالَ فَأَنَا رَأَيْتُهُ يَجُرُّ النِّسْعَةَ .

ترجمہ Book - حدیث 4499

کتاب: دیتوں کا بیان باب: حاکم یا قاضی خون معاف کرنے کا کہے تو کیسا ہے؟ سیدنا وائل بن حجر ؓ کا بیان ہے کہ میں نبی کریم ﷺ کی خدمت میں حاضر تھا کہ ایک قاتل لایا گیا اس کی گردن میں چمڑے کی ایک پٹی ( بندھی ہوئی ) تھی ۔ آپ ﷺ نے مقتول کے ولی کو بلایا اور اس سے کہا ” کیا تم معاف کرتے ہو ؟ “ اس نے کہا : نہیں ۔ آپ نے پوچھا ” کیا تم دیت لینا قبول کرتے ہو ؟ “ اس نے کہا : نہیں ۔ آپ ﷺ نے پوچھا ” کیا قتل کرو گے ؟ “ اس نے کہا : ہاں ۔ آپ ﷺ نے فرمایا ” جاؤ اسے لے جاؤ ۔ “ پس جب اس نے پشت پھیری تو آپ ﷺ نے ( پھر ) پوچھا ” کیا معاف کرتے ہو ؟ “ اس نے کہا : نہیں ۔ آپ ﷺ نے فرمایا ” کیا دیت لیتے ہو ؟ “ اس نے کہا : نہیں ۔ آپ ﷺ نے کہا ” کیا قتل کرو گے ؟ “ اس نے کہا : ہاں ۔ آپ ﷺ نے فرمایا ” جاؤ لے جاؤ ۔ “ پھر چوتھی بار فرمایا ” اگر تم اس کو معاف کر دو تو یہ اپنے اور اپنے مقتول دونوں کے گناہ اپنے سر لے گا ۔ “ راوی نے کہا : چنانچہ اس نے اس کو معاف کر دیا ۔ وائل کہتے ہیں کہ میں نے قاتل کو دیکھا کہ وہ اپنی پٹی گھسیٹے جا رہا تھا ۔ 1 : اگر مجرم کے بھاگ جانے کا اندیشہ ہو تو اس کو باندھنا جائز ہے ۔ 2 : مقتول کے ولی کو تین باتوں میں سے صرف ایک اختیار ہے کہ معاف کردے یا دیت قبول کرلے قصاص لے ۔ 3 : حاکم اور قاضی کو جائز ہے کہ معاف کرنھ کی ترغیب دے 4 : اگر قاتل قصاص میں قتل کیا جائے تو امید ہے کہ یہ اس کے لئے کفارہ بن جائے گا ،بصورت دیگر اس کا معاملہ اللہ کے ہاتھ میں ہے ۔