Book - حدیث 4472

كِتَابُ الْحُدُودِ بَابٌ فِي إِقَامَةِ الْحَدِّ عَلَى الْمَرِيضِ صحیح حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ سَعِيدٍ الْهَمْدَانِيُّ، حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي يُونُسُ عَنِ ابْنِ شِهَابٍ قَالَ، أَخْبَرَنِي أَبُو أُمَامَةَ بْنُ سَهْلِ بْنِ حُنَيْفٍ أَنَّهُ أَخْبَرَهُ بَعْضُ أَصْحَابِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنَ الْأَنْصَارِ, أَنَّهُ اشْتَكَى رَجُلٌ مِنْهُمْ حَتَّى أُضْنِيَ، فَعَادَ جِلْدَةً عَلَى عَظْمٍ، فَدَخَلَتْ عَلَيْهِ جَارِيَةٌ لِبَعْضِهِمْ، فَهَشَّ لَهَا، فَوَقَعَ عَلَيْهَا، فَلَمَّا دَخَلَ عَلَيْهِ رِجَالُ قَوْمِهِ يَعُودُونَهُ, أَخْبَرَهُمْ بِذَلِكَ، وَقَالَ: اسْتَفْتُوا لِي رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ, فَإِنِّي قَدْ وَقَعْتُ عَلَى جَارِيَةٍ دَخَلَتْ عَلَيَّ، فَذَكَرُوا ذَلِكَ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَقَالُوا: مَا رَأَيْنَا بِأَحَدٍ مِنَ النَّاسِ مِنَ الضُّرِّ مِثْلَ الَّذِي هُوَ بِهِ, لَوْ حَمَلْنَاهُ إِلَيْكَ لَتَفَسَّخَتْ عِظَامُهُ, مَا هُوَ إِلَّا جِلْدٌ عَلَى عَظْمٍ! فَأَمَرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يَأْخُذُوا لَهُ مِائَةَ شِمْرَاخٍ، فَيَضْرِبُوهُ بِهَا ضَرْبَةً وَاحِدَةً.

ترجمہ Book - حدیث 4472

کتاب: حدود اور تعزیرات کا بیان باب: مریض آدمی کو حد لگانا جناب ابوامامہ بن سہل بن حنیف کہتے ہیں کہ ان سے رسول اللہ ﷺ کے بعض انصاری صحابیوں نے بیان کیا کہ ان کا ایک آدمی بیمار ہو گیا اور اس قدر نحیف ہو گیا کہ بس ہڈیوں پر چمڑا رہ گیا ۔ اس کے پاس کسی کی لونڈی آئی ‘ اسے دیکھ کر اسے جوش آ گیا اور پھر اس سے جماع کر بیٹھا ۔ جب اس کی قوم کے لوگ اس کی عیادت کے لیے گئے تو اس نے انہیں اپنی یہ بات بتائی اور کہا کہ میرے متعلق رسول اللہ ﷺ سے دریافت کرو ، بیشک میرے پاس ایک لونڈی آئی تھی اور میں اس سے جماع کر بیٹھا ہوں ۔ چنانچہ انہوں نے رسول اللہ ﷺ سے اس کا ذکر کیا اور بتایا کہ ہم نے اس جیسا بیمار کوئی نہیں دیکھا ، اگر ہم اسے آپ ﷺ کے پاس اٹھا کر بھی لائیں تو اس کی ہڈیاں جدا ہو جائیں گی ‘ وہ تو بس ہڈیوں پر چمڑا ہے ، تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ” اس کے لیے کھجور کی ایک ایسی ڈالی حاصل کرو جس میں باریک سو شاخیں ہوں ، وہ اسے ایک ہی مار دو ۔ “ اللہ کی شریعت سے بڑھ کرانسان کےلئےاورکہیں راحت اورآسائش نہیں ہے انتہائی نحیف اور مریض آدمی کےساتھ حد جاری کرنے میں مناسب حیلہ اختیار کیا جاسکتا ہے۔