Book - حدیث 4428

كِتَابُ الْحُدُودِ بَابُ رَجْمِ مَاعِزِ بْنِ مَالِكٍ ضعیف حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ قَالَ، أَخْبَرَنِي أَبُو الزُّبَيْرِ أَنَّ عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ الصَّامِتِ ابْنَ عَمِّ أَبِي هُرَيْرَةَ أَخْبَرَهُ أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا هُرَيْرَةَ، يَقُولُ: جَاءَ الْأَسْلَمِيُّ نَبِيَّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَشَهِدَ عَلَى نَفْسِهِ أَنَّهُ أَصَابَ امْرَأَةً حَرَامًا- أَرْبَعَ مَرَّاتٍ-, كُلُّ ذَلِكَ يُعْرِضُ عَنْهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَأَقْبَلَ فِي الْخَامِسَةِ، فَقَالَ: >أَنِكْتَهَا؟<، قَالَ: نَعَمْ، قَالَ: >حَتَّى غَابَ ذَلِكَ مِنْكَ فِي ذَلِكَ مِنْهَا؟!<، قَالَ: نَعَمْ، قَالَ: >كَمَا يَغِيبُ الْمِرْوَدُ فِي الْمُكْحُلَةِ، وَالرِّشَاءُ فِي الْبِئْرِ؟<، قَالَ: نَعَمْ، قَالَ: >فَهَلْ تَدْرِي مَا الزِّنَا؟<، قَالَ: نَعَمْ, أَتَيْتُ مِنْهَا حَرَامًا مَا يَأْتِي الرَّجُلُ مِنِ امْرَأَتِهِ حَلَالًا! قَالَ: >فَمَا تُرِيدُ بِهَذَا الْقَوْلِ؟<، قَالَ: أُرِيدُ أَنْ تُطَهِّرَنِي، فَأَمَرَ بِهِ فَرُجِمَ، فَسَمِعَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَجُلَيْنِ مِنْ أَصْحَابِهِ، يَقُولُ أَحَدُهُمَا لِصَاحِبِهِ: انْظُرْ إِلَى هَذَا الَّذِي سَتَرَ اللَّهُ عَلَيْهِ، فَلَمْ تَدَعْهُ نَفْسُهُ حَتَّى رُجِمَ رَجْمَ الْكَلْبِ! فَسَكَتَ عَنْهُمَا، ثُمَّ سَارَ سَاعَةً حَتَّى مَرَّ بِجِيفَةِ حِمَارٍ شَائِلٍ بِرِجْلِهِ، فَقَالَ: >أَيْنَ فُلَانٌ وَفُلَانٌ؟<، فَقَالَا: نَحْنُ ذَانِ يَا رَسُولَ اللَّهِ! قَالَ: >انْزِلَا, فَكُلَا مِنْ جِيفَةِ هَذَا الْحِمَارِ!<، فَقَالَا، يَا نَبِيَّ اللَّهِ! مَنْ يَأْكُلُ مِنْ هَذَا؟ قَالَ: >فَمَا نِلْتُمَا مِنْ عِرْضِ أَخِيكُمَا آنِفًا أَشَدُّ مِنْ أَكْلٍ مِنْهُ، وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ, إِنَّهُ الْآنَ لَفِي أَنْهَارِ الْجَنَّةِ يَنْقَمِسُ فِيهَا<.

ترجمہ Book - حدیث 4428

کتاب: حدود اور تعزیرات کا بیان باب: ماعز بن مالک کے رجم کا بیان سیدنا ابوہریرہ ؓ نے بیان کیا کہ ( ماعز اسلمی ) اسلمی ، اللہ کے نبی ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا اور اپنے متعلق گواہی دی کہ وہ ایک عورت کے ساتھ زنا کر بیٹھا یہ گواہی اس نے اپنے خلاف چار مرتبہ دی ۔ ہر بار نبی کریم ﷺ اس سے اپنا منہ پھیر لیتے تھے ۔ پھر وہ پانچویں بار سامنے ہوا تو آپ ﷺ نے اس سے پوچھا ” کیا تو نے فی الواقع اس کے ساتھ جماع کیا ہے ؟ “ اس نے کہا : ہاں ۔ آپ ﷺ نے کہا ” حتیٰ کہ تیرا ذکر اس کی فرج میں غائب ہو گیا تھا ؟ “ اس نے کہا : ہاں ۔ آپ نے کہا ” کیا بھلا جس طرح سلائی سرمے دانی میں غائب ہو جاتی ہے اور ڈول کی رسی کنویں میں چلی جاتی ہے ۔“ اس نے کہا : ہاں ۔ آپ نے پھر پوچھا ” کیا بھلا جانتے بھی ہو کہ زنا کیا ہوتا ہے ؟ “ اس نے کہا : ہاں ، میں اس سے حرام کام کر بیٹھا ہوں جیسے کہ شوہر اپنی بیوی سے حلال کرتا ہے ۔ آپ ﷺ نے فرمایا ” تو اپنی اس بات سے کیا چاہتا ہے ؟ “ اس نے کہا : میں چاہتا ہوں کہ آپ مجھے پاک کر دیں ۔ تب آپ ﷺ نے حکم دیا تو اسے رجم کیا گیا ۔ پھر آپ نے اپنے صحابہ میں سے دو آدمیوں کو سنا کہ ایک دوسرے سے کہہ رہا تھا : اس کو دیکھو کہ اللہ نے اس پر پردہ ڈالا تھا مگر اس کے نفس نے اس کو نہیں چھوڑا حتیٰ کہ پتھروں سے مارا گیا جیسے کہ کتے کو مارا جاتا ہے ، تو آپ ان سے خاموش رہے ۔ پھر آپ کچھ دیر چلتے رہے حتیٰ کہ ایک مردہ گدھے کے پاس سے گزرے جس کی ٹانگیں اوپر کو اٹھی ہوئی تھی ۔ آپ ﷺ نے فرمایا ” فلاں اور فلاں کہاں ہیں ؟ “ انہوں نے کہا : ہم یہ رہے ، اے اللہ کے رسول ! آپ ﷺ نے فرمایا ” اترو اور اس مردار گدھے کا گوشت کھاؤ ۔ “ انہوں نے کہا : اے اللہ کے نبی ! بھلا یہ بھی کوئی کھاتا ہے ؟ آپ ﷺ نے فرمایا ” ابھی جو تم نے اپنے بھائی کی عزت پامال کی ہے ، وہ اس کے کھانے سے بدتر ہے ۔ قسم اس ذات کی جس کے قرآن مجید میں اللہ تعالی نےبھی غیبت کرنے کو مسلمان مردہ بھائی کاگوشت کھانے سے تعبیر کیاہے۔(سورحجرات : 12) اس سے اندازہ لگایا جاسکتا ہےکہ غیبت کرنا کتنا قبیح فعل ہے۔ اور اگلی احادیث میں آرہاہے کہ نبی ﷺ نے سزا یافتہ کو خیرا درااچھے الفاظ کےساتھ یاد فرمایا۔