Book - حدیث 4413

كِتَابُ الْحُدُودِ بَابٌ فِي الرَّجْمِ حسن الإسناد حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ ثَابِتٍ الْمَرْوَزِيُّ، حَدَّثَنِي عَلِيُّ بْنُ الْحُسَيْنِ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ يَزِيدَ النَّحْوِيِّ، عَنْ عِكْرِمَةَ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: {وَاللَّاتِي يَأْتِينَ الْفَاحِشَةَ مِنْ نِسَائِكُمْ فَاسْتَشْهِدُوا عَلَيْهِنَّ أَرْبَعَةً مِنْكُمْ فَإِنْ شَهِدُوا فَأَمْسِكُوهُنَّ فِي الْبُيُوتِ حَتَّى يَتَوَفَّاهُنَّ الْمَوْتُ أَوْ يَجْعَلَ اللَّهُ لَهُنَّ سَبِيلًا}[النساء: 15]، وَذَكَرَ الرَّجُلَ بَعْدَ الْمَرْأَةِ، ثُمَّ جَمَعَهُمَا، فَقَالَ: {وَاللَّذَانِ يَأْتِيَانِهَا مِنْكُمْ فَآذُوهُمَا فَإِنْ تَابَا وَأَصْلَحَا فَأَعْرِضُوا عَنْهُمَا}[النساء: 16], فَنَسَحَ ذَلِكَ بِآيَةِ الْجَلْدِ، فَقَالَ: {الزَّانِيَةُ وَالزَّانِي فَاجْلِدُوا كُلَّ وَاحِدٍ مِنْهُمَا مِائَةَ جَلْدَةٍ }[النور: 2].

ترجمہ Book - حدیث 4413

کتاب: حدود اور تعزیرات کا بیان باب: زانی کو سنگسار کرنے کا بیان جناب عکرمہ سے روایت ہے کہ آیت کریمہ «واللاتي يأتين الفاحشة من نسائكم فاستشهدوا عليهن أربعة منكم فإن شهدوا فأمسكوهن في البيوت حتى يتوفاهن الموت أو يجعل الله لهن سبيلا» ” تمہاری عورتوں میں سے جو کوئی بدکاری ( زنا ) کا ارتکاب کریں تو ان پر اپنے میں سے چار گواہ لاؤ ‘ اگر وہ گواہی دیں تو ان عورتوں کو گھروں میں قید رکھو یہاں تک کہ انہیں موت آ جائے یا اللہ ان کے لیے کوئی راستہ نکال دے ۔ “ کے سلسلے میں سیدنا ابن عباس ؓ نے فرمایا کہ آیت کریمہ میں مرد کا بیان عورت کے بعد ہے ۔ پھر ان دونوں ( مرد اور عورت ) کو جمع کرتے ہوئے فرمایا «واللذان يأتيانها منكم فآذوه فإن تابا وأصلحا فأعرضوا عنهما» اور تم میں سے جو یہ کام کریں تو انہیں ایذا دو ‘ پھر اگر وہ توبہ کر لیں اور اپنی اصلاح کر لیں تو ان سے درگزر کرو ۔ “ پھر یہ حکم ( سورۃ النور کی ) اس آیت سے منسوخ کر دیا گیا جس میں سو کوڑے مارنے کا بیان ہے «الزانية والزاني فاجلدوا كل واحد منه مائة جلدة»” زانی مرد اور عورت ہر ایک کو سو سو کوڑے مارو ۔ “ ابتدائے اسلام میں زنا کی حدنازل ہونے سے پہلے یہی حکم تھاکہ بدکارعورتوں یا مردوں کو عمومی سزادی جائےاور عورتوں کو گھروں میں بند رکھا جائے۔ بعد ازاں معروف حد نازل ہوئی۔ اور جن ممالک میں شرعی حدود نہیں ہیں وہاں اس پر عمل کیا جاسکتا ہے۔