Book - حدیث 4374

كِتَابُ الْحُدُودِ بَابٌ فِي الْحَدِّ يُشْفَعُ فِيهِ صحیح حَدَّثَنَا عَبَّاسُ بْنُ عَبْدِ الْعَظِيمِ ومُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى قَالَا حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ عَنْ الزُّهْرِيِّ عَنْ عُرْوَةَ عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا قَالَتْ كَانَتْ امْرَأَةٌ مَخْزُومِيَّةٌ تَسْتَعِيرُ الْمَتَاعَ وَتَجْحَدُهُ فَأَمَرَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِقَطْعِ يَدِهَا وَقَصَّ نَحْوَ حَدِيثِ اللَّيْثِ قَالَ فَقَطَعَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَدَهَا قَالَ أَبُو دَاوُد رَوَى ابْنُ وَهْبٍ هَذَا الْحَدِيثَ عَنْ يُونُسَ عَنْ الزُّهْرِيِّ وَقَالَ فِيهِ كَمَا قَالَ اللَّيْثُ إِنَّ امْرَأَةً سَرَقَتْ فِي عَهْدِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي غَزْوَةِ الْفَتْحِ وَرَوَاهُ اللَّيْثُ عَنْ يُونُسَ عَنْ ابْنِ شِهَابٍ بِإِسْنَادِهِ فَقَالَ اسْتَعَارَتْ امْرَأَةٌ وَرَوَى مَسْعُودُ بْنُ الْأَسْوَدِ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَحْوَ هَذَا الْخَبَرِ قَالَ سَرَقَتْ قَطِيفَةً مِنْ بَيْتِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَرَوَاهُ أَبُو الزُّبَيْرِ عَنْ جَابِرٍ أَنَّ امْرَأَةً سَرَقَتْ فَعَاذَتْ بِزَيْنَبَ بِنْتِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ.

ترجمہ Book - حدیث 4374

کتاب: حدود اور تعزیرات کا بیان باب: اللہ کی حدود میں سفارش کرنا ام المؤمنین سیدہ عائشہ ؓا نے بیان کیا کہ بنو مخزوم کی ایک عورت تھی جو چیزیں مانگ کر لے جاتی اور پھر ان سے مکر جاتی تھی ۔ چنانچہ نبی کریم ﷺ نے اس کا ہاتھ کاٹنے کا حکم دیا اور مذکورہ بالا حدیث لیث کے مانند قصہ بیان کیا ۔ کہا : چنانچہ نبی کریم ﷺ نے اس کا ہاتھ کاٹ ڈالا ۔ امام ابوداؤد ؓ کہتے ہیں کہ ابن وہب نے یہ حدیث بواسطہ یونس ‘ زہری سے روایت کی اور اسی طرح کہا جیسے کہ لیث نے بیان کیا کہ ایک عورت نے نبی کریم ﷺ کے دور میں فتح مکہ کے دنوں میں چوری کر لی ۔ اور لیث نے بواسطہ یونس ‘ ابن شہاب سے اپنی سند سے روایت کیا تو کہا : ایک عورت کوئی چیز مانگ کر لے گئی ۔ مسعور بن اسود نے نبی کریم ﷺ سے اس حدیث کی مانند روایت کیا ‘ کہا : اس عورت نے رسول اللہ ﷺ کے گھر سے ایک چادر چوری کی ۔ امام ابوداؤد ؓ نے کہا : اور ابوزبیر نے سیدنا جابر ؓ سے روایت کیا کہ ایک عورت نے چوری کر لی پھر سیدہ زینب ؓا دختر رسول اللہ ﷺ کے ہاں جا کر پناہ لے لی ۔ اور سفیان بن عیینہ نے اسے بواسطہ ایوب بن موسیٰ ‘ عن زہری ‘ عن عروہ ‘ عن عائشہ ؓا روایت کیا ۔ اور سفیان سے روایت کرنے والوں میں الفاظ روایت کا اختلاف ہے ‘ ان میں سے بعض کہتے ہیں کہ وہ عورت چیزیں مانگ کر لے جاتی تھی اور بعض کہتے ہیں کہ وہ چوری کرتی تھی ‘ اور شعیب بواسطہ زہری عن عروہ عن عائشہ ؓا بیان کرتے ہیں تو کہتے ہیں کہ وہ عورت چیزیں مانگ کر لے جاتی تھی اور آگے مذکورہ حدیث بیان کی ۔ اور جب اسماعیل بن امیہ اور اسحاق بن راشد دونوں زہری سے بیان کرتے ہیں تو کہتے ہیں کہ اس عورت نے نبی کریم ﷺ کے گھر سے چوری کی تھی اور باقی حدیث مذکورہ حدیث کی مثل بیان کی ۔ 1) مانگی چیز کا انکار لغوی یااصطلا حی طور پر چوری نہیں ہے مگر صیح حدیث میں اس کارروائی پر ہاتھ کاٹنے کا حکم ثابت ہے۔ تو معلوم ہوا کہ یہ شرعی طور پر چوری کے حکم میں ہے اور شریعت اصلاھات سے اولیٰ ترین ہے 2) اور ممکن ہے کہ اس عورت نے مانگی چیز کا انکار کیا ہواور چوری بھی کی ہو تبھی اس کا ہاتھ کاٹا گیا۔ تفصیل کے لئے دیکھیے: (الروضةالندية)