Book - حدیث 4361

كِتَابُ الْحُدُودِ بَابُ الْحُكْمِ فِيمَنْ سَبَّ النَّبِيَّﷺ صحیح حَدَّثَنَا عَبَّادُ بْنُ مُوسَى الْخُتَّلِيُّ، أَخْبَرَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ جَعْفَرٍ الْمَدَنِيُّ، عَنْ إِسْرَائِيلَ، عَنْ عُثْمَانَ الشَّحَّامِ، عَنْ عِكْرِمَةَ، قَالَ: حَدَّثَنَا ابْنُ عَبَّاسٍ, أَنَّ أَعْمَى كَانَتْ لَهُ أُمُّ وَلَدٍ تَشْتُمُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَتَقَعُ فِيهِ, فَيَنْهَاهَا، فَلَا تَنْتَهِي، وَيَزْجُرُهَا، فَلَا تَنْزَجِرُ، قَالَ: فَلَمَّا كَانَتْ ذَاتَ لَيْلَةٍ جَعَلَتْ تَقَعُ فِي النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَتَشْتُمُهُ، فَأَخَذَ الْمِغْوَلَ، فَوَضَعَهُ فِي بَطْنِهَا، وَاتَّكَأَ عَلَيْهَا فَقَتَلَهَا، فَوَقَعَ بَيْنَ رِجْلَيْهَا طِفْلٌ، فَلَطَّخَتْ مَا هُنَاكَ بِالدَّمِ، فَلَمَّا أَصْبَحَ، ذُكِرَ ذَلِكَ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ, فَجَمَعَ النَّاسَ فَقَالَ: >أَنْشُدُ اللَّهَ رَجُلًا، فَعَلَ مَا فَعَلَ، لِي عَلَيْهِ حَقٌّ, إِلَّا قَامَ<. فَقَامَ الْأَعْمَى يَتَخَطَّى النَّاسَ وَهُوَ يَتَزَلْزَلُ، حَتَّى قَعَدَ بَيْنَ يَدَيِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ! أَنَا صَاحِبُهَا, كَانَتْ تَشْتُمُكَ وَتَقَعُ فِيكَ، فَأَنْهَاهَا فَلَا تَنْتَهِي، وَأَزْجُرُهَا فَلَا تَنْزَجِرُ، وَلِي مِنْهَا ابْنَانِ مِثْلُ اللُّؤْلُؤَتَيْنِ، وَكَانَتْ بِي رَفِيقَةً، فَلَمَّا كَانَ الْبَارِحَةَ جَعَلَتْ تَشْتُمُكَ وَتَقَعُ فِيكَ، فَأَخَذْتُ الْمِغْوَلَ، فَوَضَعْتُهُ فِي بَطْنِهَا، وَاتَّكَأْتُ عَلَيْهَا حَتَّى قَتَلْتُهَا! فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: >أَلَا اشْهَدُوا أَنَّ دَمَهَا هَدَرٌ<.

ترجمہ Book - حدیث 4361

کتاب: حدود اور تعزیرات کا بیان باب: نبی کریم ﷺ کو گالی دینے والے کا حکم سیدنا ابن عباس ؓ سے مروی ہے کہ ایک نابینا تھا ، اس کی ایک ام ولد ( ایسی لونڈی جس سے اس کی اولاد ہو ) تھی اور وہ نبی کریم ﷺ کو گالیاں بکتی اور برا بھلا کہتی تھی ۔ وہ اسے منع کرتا تھا مگر مانتی نہ تھی ‘ وہ اسے ڈانٹتا تھا مگر سمجھتی نہ تھی ۔ ایک رات وہ نبی کریم ﷺ کی بدگوئی کرنے اور آپ ﷺ کو گالیاں دینے لگی تو اس نابینے نے ایک برچھا لیا ‘ اسے اس لونڈی کے پیٹ پر رکھ کر اس پر اپنا بوجھ ڈال دیا اور اس طرح اسے قتل کر ڈالا ۔ اس لونڈی کے پاؤں میں ایک چھوٹا بچہ آ گیا اور اس نے اس جگہ کو خون سے لت پت کر دیا ۔ جب صبح ہوئی تو نبی کریم ﷺ سے اس قتل کا ذکر کیا گیا اور لوگ اکٹھے ہو گئے تو آپ ﷺ نے فرمایا ” میں اس آدمی کو اللہ کی قسم دیتا ہوں ‘ جس نے یہ کاروائی کی ہے اور میرا اس پر حق ہے کہ کھڑا ہو جائے ۔ “ تو وہ نابینا کھڑا ہو گیا اور لوگوں کی گردنیں پھلانگتا ہوا آیا ‘ اس کے قدم لرز رہے تھے حتیٰ کہ نبی کریم ﷺ کے سامنے آ بیٹھا اور بولا : اے اللہ کے رسول ! میں اس کا قاتل ہوں ۔ یہ آپ کو گالیاں بکتی اور برا بھلا کہتی تھی ۔ میں اس کو منع کرتا تھا مگر باز نہ آتی تھی ۔ میں اسے ڈانٹتا تھا مگر سمجھتی نہ تھی ۔ میرے اس سے دو بچے بھی ہیں جیسے کہ موتی ہوں اور وہ میرا بڑا اچھا ساتھ دینے والی تھی ۔ گزشتہ رات جب وہ آپ کو گالیاں دینے لگی اور برا بھلا کہنے لگی تو میں نے چھرا لیا ‘ اسے اس کے پیٹ پر رکھا اور اس پر اپنا بوجھ ڈال دیا حتیٰ کہ اس کو قتل کر ڈالا ۔ تو نبی کریم ﷺ نے فرمایا ” خبردار ! گواہ ہو جاؤ اس لونڈی کا خون ضائع ہے ۔ “ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے شاتم کی سزا قتل ہے۔ اس پرکوئی قصاص ہے نہ ادیت۔قاتل کا یہ عمل اس کی غیرت ایمانی کا اظہار اور باعث اجروفضل ہوگا۔ لیکن یہ کام بواسطہ حکومت ہو ناچاہئے تاکہ فتنہ نہ بن جائے۔