Book - حدیث 434

كِتَابُ الصَّلَاةِ بَابٌ إِذَا أَخَّرَ الْإِمَامُ الصَّلَاةَ عَنِ الْوَقْتِ صحیح حَدَّثَنَا أَبُو الْوَلِيدِ الطَّيَالِسِيُّ حَدَّثَنَا أَبُو هَاشِمٍ يَعْنِي الزَّعْفَرَانِيَّ حَدَّثَنِي صَالِحُ بْنُ عُبَيْدٍ عَنْ قَبِيصَةَ بْنِ وَقَّاصٍ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَكُونُ عَلَيْكُمْ أُمَرَاءُ مِنْ بَعْدِي يُؤَخِّرُونَ الصَّلَاةَ فَهِيَ لَكُمْ وَهِيَ عَلَيْهِمْ فَصَلُّوا مَعَهُمْ مَا صَلَّوْا الْقِبْلَةَ

ترجمہ Book - حدیث 434

کتاب: نماز کے احکام ومسائل باب: جب امام نماز کو وقت سے مؤخر کرے سیدنا قبیصہ بن وقاص ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ” میرے بعد تم پر ایسے حکام آئیں گے جو نمازوں میں تاخیر کریں گے ۔ تو ایسی نمازیں تمہارے لیے باعث اجر ہوں گی جب کہ ان کے لیے وبال ہوں گی ۔ پس تم ان کے ساتھ مل کر پڑھ لیا کرنا جب تک کہ وہ قبلہ رخ ہو کر نمازیں پڑھتے رہیں ۔ “ تفصیل اوپر بیان ہوئی ہےاورایسی نمازیں تمہارے لیے باعث اجر اس لیے ہوں گی کہ اس تاخیر میں تمہارے اپنا قصور نہیں ہوگا۔جب کہ ان حکام کےجبر کی وجہ سے تم ان کی مخالفت کی بھی جرات نہ کرسکو گے۔لہذا ان کی وجہ سےنماز میں تاخیر پرتم گناہ گار نہیں ہوگے بلکہ اس ساراوبال انہی پر ہوگا ۔واللہ اعلم.