Book - حدیث 4338

كِتَابُ الْمَلَاحِمِ بَابُ الْأَمْرِ وَالنَّهْيِ صحیح حَدَّثَنَا وَهْبُ بْنُ بَقِيَّةَ، عَنْ خَالِدٍ ح، وحَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ عَوْنٍ، أَخْبَرَنَا سهُشَيْمٌ الْمَعْنَى، عَنْ إِسْمَاعِيلَ، عَنْ قَيْسٍ، قَالَ: قَالَ أَبُو بَكْرٍ بَعْدَ أَنْ حَمِدَ اللَّهَ وَأَثْنَى عَلَيْهِ: يَا أَيُّهَا النَّاسُ إِنَّكُمْ تَقْرَءُونَ هَذِهِ الْآيَةَ وَتَضَعُونَهَا عَلَى غَيْرِ مَوَاضِعِهَا: {عَلَيْكُمْ أَنْفُسَكُمْ لَا يَضُرُّكُمْ مَنْ ضَلَّ إِذَا اهْتَدَيْتُمْ}[المائدة: 105]، قَالَ عَنْ خَالِدٍ: وَإِنَّا سَمِعْنَا النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ, يَقُولُ: >إِنَّ النَّاسَ إِذَا رَأَوُا الظَّالِمَ فَلَمْ يَأْخُذُوا عَلَى يَدَيْهِ، أَوْشَكَ أَنْ يَعُمَّهُمُ اللَّهُ بِعِقَابٍ<. و قَالَ عَمْرٌو عَنْ هُشَيْمٍ: وَإِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ, يَقُولُ: >مَا مِنْ قَوْمٍ يُعْمَلُ فِيهِمْ بِالْمَعَاصِي، ثُمَّ يَقْدِرُونَ عَلَى أَنْ يُغَيِّرُوا ثُمَّ لَا يُغَيِّرُوا, إِلَّا يُوشِكُ أَنْ يَعُمَّهُمُ اللَّهُ مِنْهُ بِعِقَابٍ<. قَالَ أَبُو دَاوُد: وَرَوَاهُ كَمَا قَالَ خَالِدٌ أَبُو أُسَامَةَ وَجَمَاعَةٌ وَقَالَ شُعْبَةُ فِيهِ: >مَا مِنْ قَوْمٍ يُعْمَلُ فِيهِمْ بِالْمَعَاصِي هُمْ أَكْثَرُ مِمَّنْ يَعْمَلُهُ...<.

ترجمہ Book - حدیث 4338

کتاب: اہم معرکوں کا بیان جو امت میں ہونے والے ہیں باب: امر بالمعروف اور نھی عن المنکر کا بیان جناب قیس ( قیس بن ابی حازم ) نے بیان کیا کہ سیدنا ابوبکر صدیق ؓ نے ( اپنے خطبے میں ) اللہ عزوجل کی حمد و ثنا کے بعد فرمایا ” اے لوگو ! تم یہ آیت کریمہ پڑھتے تو ہو «عليكم أنفسكم لا يضركم من ضل إذا اهتديتم» ” اے ایمان والو ! اپنی فکر کرو ، جب تم راہ راست پر چل رہے ہو تو جو شخص گمراہ ہو اس سے تمہارا کوئی نقصان نہیں ۔ “ مگر اس کے معنی و مفہوم غلط سمجھتے ہو ۔ خالد نے روایت کیا ۔ ہم نے نبی کریم ﷺ کو فرماتے سنا ہے ” بلاشبہ لوگ جب کسی کو ظلم کرتا دیکھیں اور پھر اس کے ہاتھ نہ پکڑیں تو قریب ہوتا ہے کہ اللہ ان سب کو عذاب کی لپیٹ میں لے لے ۔ “ اور عمرو ( عمرو بن عون ) نے ہشیم سے روایت کرتے ہوئے کہا : حالانکہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے ہوئے سنا ہے ” جس قوم میں اللہ کی نافرمانی کے کام ہوں اور وہ انہیں روکنے پر قادر ہوں مگر منع نہ کرتے ہوں تو قریب ہوتا ہے کہ اللہ اس سبب سے ان سب کو اپنے عقاب کی لپیٹ میں لے لے ۔“ امام ابوداؤد ؓ فرماتے ہیں اس روایت کو اسی طرح جیسے کہ خالد نے روایت کیا ہے ۔ ابواسامہ اور ایک بڑی جماعت نے بیان کیا ہے ۔ جب کہ شعبہ نے یوں بیان کیا ” جس کسی قوم میں نافرمانیاں ہوتی ہوں اور معاصی سے بچنے والوں کی تعداد زیادہ اور دوسروں کی کم ہو ۔ ( اور پھر بھی وہ نہ روکیں تو ان سب پر عقاب آنے کا اندیشہ ہوتا ہے ۔ “ 1 سورۃ مائدہ کی مذکورہ بالا آیت میں ذکر کی گئی بات جب تم راہِ راست پر چل رہے ہو۔۔ اسی صورت میں صحیح ہو سکتی ہے جب اہلِ ایمان شریعت کا تقاضا پورا کرتے ہوئے امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کا فریضہ سر انجام دے رہے ہوں اور پو ری قوت سے اس عمل میں منہمک اور مشغول ہوں۔ اگر اس سے اعراض اور پہلو تہی ہو تو راہِ راست پر ہونا خوش فہمی سے بڑھ کر نہیں۔ واللہ اعلم 2 امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کے اہم ترین فریضے سے غفلت اور اس میں سست روی کا عقاب میرے خیا ل میں یہاں عذاب ہو نا چاہیئے سب لوگوں کو اپنی لپیٹ میں لے لیتا ہے۔ سورۃ انفال میں فرمایا گیا ہے اور اس فتنے وبال اور عقاب میرے خیا ل میں یہاں عذاب ہو نا چاہیئے سے ڈرو جو تم میں سے محض ظالموں ہی کو نہ آئے گا۔ بلکہ دوسروں کو بھی اپنی لپیٹ میں لے لے گا