Book - حدیث 4326

كِتَابُ الْمَلَاحِمِ بَابٌ فِي خَبَرِ الْجَسَّاسَةِ صحیح حَدَّثَنَا حَجَّاجُ بْنُ أَبِي يَعْقُوبَ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ، حَدَّثَنَا أَبِي، قَالَ: سَمِعْتُ حُسَيْنًا الْمُعَلِّمَ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ بُرَيْدَةَ، حَدَّثَنَا عَامِرُ بْنُ شَرَاحِيلَ الشَّعْبِيُّ، عَنْ فَاطِمَةَ بِنْتِ قَيْسٍ، قَالَتْ: سَمِعْتُ مُنَادِيَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُنَادِي, أَنِ: الصَّلَاةُ جَامِعَةٌ، فَخَرَجْتُ، فَصَلَّيْتُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَلَمَّا، قَضَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَلَاتَهُ, جَلَسَ عَلَى الْمِنْبَرِ وَهُوَ يَضْحَكُ، قَالَ: >لِيَلْزَمْ كُلُّ إِنْسَانٍ مُصَلَّاهُ< ،ثُمَّ قَالَ: >هَلْ تَدْرُونَ لِمَ جَمَعْتُكُمْ؟<، قَالُوا: اللَّهُ وَرَسُولُهُ أَعْلَمُ، قَالَ: >إِنِّي مَا جَمَعْتُكُمْ لِرَهْبَةٍ وَلَا رَغْبَةٍ، وَلَكِنْ جَمَعْتُكُمْ أَنَّ تَمِيمًا الدَّارِيَّ كَانَ رَجُلًا نَصْرَانِيًّا فَجَاءَ فَبَايَعَ، وَأَسْلَمَ، وَحَدَّثَنِي حَدِيثًا وَافَقَ الَّذِي حَدَّثْتُكُمْ عَنِ الدَّجَّالِ! حَدَّثَنِي: أَنَّهُ رَكِبَ فِي سَفِينَةٍ بَحْرِيَّةٍ مَعَ ثَلَاثِينَ رَجُلًا مِنْ لَخْمٍ وَجُذَامٍ، فَلَعِبَ بِهِمُ الْمَوْجُ شَهْرًا فِي الْبَحْرِ، وَأَرْفَئُوا إِلَى جَزِيرَةٍ حِينَ مَغْرِبِ الشَّمْسِ، فَجَلَسُوا فِي أَقْرُبِ السَّفِينَةِ، فَدَخَلُوا الْجَزِيرَةَ، فَلَقِيَتْهُمْ دَابَّةٌ أَهْلَبُ كَثِيرَةُ الشَّعْرِ، قَالُوا: وَيْلَكِ! مَا أَنْتِ؟ قَالَتْ: أَنَا الْجَسَّاسَةُ, انْطَلِقُوا إِلَى هَذَا الرَّجُلِ فِي هَذَا الدَّيْرَ, فَإِنَّهُ إِلَى خَبَرِكُمْ بِالْأَشْوَاقِ، قَالَ: لَمَّا سَمَّتْ لَنَا رَجُلًا فَرِقْنَا مِنْهَا أَنْ تَكُونَ شَيْطَانَةً، فَانْطَلَقْنَا سِرَاعًا، حَتَّى دَخَلْنَا الدَّيْرَ، فَإِذَا فِيهِ أَعْظَمُ إِنْسَانٍ رَأَيْنَاهُ قَطُّ خَلْقًا، وَأَشَدُّهُ وَثَاقًا, مَجْمُوعَةٌ يَدَاهُ إِلَى عُنُقِهِ<... فَذَكَرَ الْحَدِيثَ، وَسَأَلَهُمْ، عَنْ نَخْلِ بَيْسَانَ, وَعَنْ عَيْنِ زُغَرَ، وَعَنِ النَّبِيِّ الْأُمِّيِّ؟ قَالَ: إِنِّي أَنَا الْمَسِيحُ, وَإِنَّهُ يُوشَكُ أَنْ يُؤْذَنَ لِي فِي الْخُرُوجِ، قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: >وَإِنَّهُ فِي بَحْرِ الشَّامِ- أَوْ بَحْرِ الْيَمَنِ- لَا بَلْ مِنْ قِبَلِ الْمَشْرِقِ مَا هُوَ!< مَرَّتَيْنِ، وَأَوْمَأَ بِيَدِهِ قِبَلَ الْمَشْرِقِ. قَالَتْ: حَفِظْتُ هَذَا مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ... وَسَاقَ الْحَدِيثَ.

ترجمہ Book - حدیث 4326

کتاب: اہم معرکوں کا بیان جو امت میں ہونے والے ہیں باب: جساسہ کا بیان سیدہ فاطمہ بنت قیس ؓا بیان کرتی ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کی طرف سے اعلان کرنے والے کو منادی کرتے ہوئے سنا کہ نماز کے لیے جمع ہو جاؤ ۔ تو میں بھی چلی آئی اور رسول اللہ ﷺ کے ساتھ نماز پڑھی ۔ جب آپ ﷺ نماز سے فارغ ہو گئے تو منبر پر تشریف لائے اور آپ ﷺ ہنس رہے تھے ۔ آپ ﷺ نے فرمایا ” ہر شخص اپنی جگہ پر بیٹھا رہے ۔ “ پھر فرمایا ” کیا جانتے ہو میں نے تمہیں کیوں جمع کیا ہے “ انہوں نے کہا : اللہ اور اس کے رسول بہتر جانتے ہیں ۔ آپ ﷺ نے فرمایا ” میں نے تمہیں ڈرانے یا خوشخبری سنانے کے لیے جمع نہیں کیا ہے ۔ میں نے تمہیں اس لیے جمع کیا ہے کہ تمیم داری عیسائی تھا ، میرے ہاں آیا ، بیعت کی اور اسلام قبول کیا اور اس نے مجھے ایک بات بیان کی ہے جو میری بات کی تائید میں ہے جو میں نے تمہیں دجال کے متعلق کہی ہے ۔ اس نے مجھے بتایا ہے کہ وہ ایک جہاز میں سوار ہوا ، اس کے ساتھ قبیلہ لخم اور جذام کے تیس آدمی تھے ۔ جہاز کو طوفانی موجوں نے آ لیا جو انہیں ایک مہینہ تک پریشان کیے رہیں ۔ اور وہ سورج غروب ہونے کے وقت ایک جزیرے کے پاس پہنچے اور ایک چھوٹی کشتی میں سوار ہو کر جزیرے میں جا اترے ۔ تو انہیں ایک جانور ملا جس کی دم بھاری اور جسم پر بہت بال تھے ۔ انہوں نے کہا : کمبخت ! تو کون ہے ؟ اس نے کہا : میں جساسہ ہوں ۔ اس گرجے میں ایک آدمی ہے اس کے پاس جاؤ ، وہ تمہاری خبروں کا بہت مشتاق ہے ۔ جب اس نے ہمارے سامنے آدمی کا نام لیا تو ہم اس سے ڈر گئے کہ کہیں شیطان نہ ہو ۔ ہم جلدی سے چلے اور اس گرجے میں داخل ہوئے تو ایک بہت بڑا انسان دیکھا ، اس قدر بڑا انسان ہم نے کبھی نہیں دیکھا تھا جسے بڑی سختی سے باندھا گیا تھا اور اس کے ہاتھ گردن کے ساتھ بندھے ہوئے تھے ۔ “ اور حدیث بیان کی ، اس نے ان سے ( شام کے ) نخلستان بیسان ، چشمہ زغر اور نبی امی ﷺ کے متعلق پوچھا ۔ اور کہا کہ میں ہی مسیح ( دجال ) ہوں ۔ عنقریب مجھے نکلنے کی اجازت مل جائے گی ۔ نبی کریم ﷺ نے فرمایا ” دجال شام یا یمن کے سمندر میں ہے ، نہیں بلکہ مشرق کی طرف میں ہے “ دو بار فرمایا ۔ آپ نے اپنے ہاتھ سے مشرق کی طرف اشارہ فرمایا ۔ سیدہ فاطمہ بنت قیس ؓا کہتی ہیں : میں نے یہ حدیث رسول اللہ ﷺ سے یاد کی ہے ، اور بقیہ حدیث بیان کی ۔ مذکو رہ دونوں روایات صحیح ہیں اس لیئے ان میں بیان کردہ باتوں پر یقین رکھنا چاہیئے۔