Book - حدیث 4267

كِتَابُ الْفِتَنِ وَالْمَلَاحِمِ بَابُ مَا يُرَخَّصُ فِيهِ مِنْ الْبَدَاوَةِ فِي الْفِتْنَةِ صحیح حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْلَمَةَ، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي صَعْصَعَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: يُوشِكُ أَنْ يَكُونَ خَيْرُ مَالِ الْمُسْلِمِ غَنَمًا يَتَّبِعُ بِهَا شَغَفَ الْجِبَالِ، وَمَوَاقِعَ الْقَطْرِ, يَفِرُّ بِدِينِهِ مِنَ الْفِتَنِ.

ترجمہ Book - حدیث 4267

کتاب: فتنوں اور جنگوں کا بیان باب: فتنوں کے ایام میں جنگل میں نکل جانے کی رخصت سیدنا ابو سعید خدری ؓ نے بیان کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ” عنقریب ایسے ہو گا کہ مسلمان کا بہترین مال اس کی بکریاں ہوں گی جن کا پیچھا کرتے ہوئے وہ پہاڑوں کی چوٹیوں اور بارش کی جگہوں میں پھرتا رہے گا ‘ اپنے دین کی حفاظت میں فتنوں سے بھاگنا چاہتا ہو گا ۔ “ جس بندے کو اپنے رب اور اس کے دین و شریعت کی حقیقی معرفت نصیب ہو جائے اس کے لیئے اسکا سب سے بڑا سرمایہ اسکا دین بن جاتا ہے اور ہر دم اسے اس کی حفاظت ہی کا دھڑکا لگا رہتا ہے۔ اسی بنا پر خالص مسلمان فتنوں کے ایام میں آبادیوں سے بھاگ کر جنگلوں اور وادیوں میں پناہ لے گا۔ اور دین کی حفاظت بڑی عزیمت کا کام ہے،جسے اللہ تو فیق دے۔