Book - حدیث 4263

كِتَابُ الْفِتَنِ وَالْمَلَاحِمِ بَابُ فِي النَّهْيِ عَنْ السَّعْيِ فِي الْفِتْنَةِ صحیح حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْحَسَنِ الْمِصِّيصِيُّ، حَدَّثَنَا حَجَّاجٌ يَعْنِي ابْنَ مُحَمَّدٍ، حَدَّثَنَا اللَّيْثُ بْنُ سَعْدٍ، قَالَ: حَدَّثَنِي مُعَاوِيَةُ بْنُ صَالِحٍ أَنَّ عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ جُبَيْرٍ حَدَّثَهُ، عَنْ أَبِيهِ عَنِ الْمِقْدَادِ بْنِ الْأَسْوَدِ، قَالَ: ايْمُ اللَّهِ! لَقَدْ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: إِنَّ السَّعِيدَ لَمَنْ جُنِّبَ الْفِتَنَ، إِنَّ السَّعِيدَ لَمَنْ جُنِّبَ الْفِتَنِ، إِنَّ السَّعِيدَ لَمَنْ جُنِّبَ الْفِتَنُ, وَلَمَنِ ابْتُلِيَ فَصَبَرَ, فَوَاهًا!.

ترجمہ Book - حدیث 4263

کتاب: فتنوں اور جنگوں کا بیان باب: فتنے میں سرگرم ہونا حرام ہے سیدنا مقداد بن اسود ؓ سے روایت ہے ، انہوں نے کہا کہ اللہ کی قسم ! میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے سنا ہے ” بلاشبہ انتہائی خوش بخت ہے وہ انسان جو فتنوں سے بچا رہا ۔ بڑا خوش بخت ہے وہ انسان جو فتنوں سے بچا رہا ‘ بڑا خوش بخت ہے وہ انسان جو فتنوں سے بچا رہا ۔ اور جو ان میں مبتلا کیا گیا پھر اس نے صبر کیا ‘ تو اس کا کیا کہنا ۔ “ ان تمام احادیث کا خلاصہ یہی ہے کہ مسلمانوں کے درمیان آپس میں اختلاف اور جھگڑا ہو اور کسی ایک فریق کا حق پر نہ ہونا واضح نہ ہو تو پھر ان میں حصہ لینے سے بچنا بہتر ہوگا حتی کہ قتل ہو جانا گوارا کر لینا کسی کو قتل کرنے سے بہتر ہوگا۔