Book - حدیث 4239

كِتَابُ الْخَاتَمِ بَابُ مَا جَاءَ فِي الذَّهَبِ لِلنِّسَاءِ صحیح حَدَّثَنَا حُمَيْدُ بْنُ مَسْعَدَةَ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ، حَدَّثَنَا خَالِدٌ، عَنْ مَيْمُونٍ الْقَنَّادِ، عَنْ أَبِي قِلَابَةَ، عَنْ مُعَاوِيَةَ بْنِ أَبِي سُفْيَانَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَهَى عَنْ رُكُوبِ النِّمَارِ، وَعَنْ لُبْسِ الذَّهَبِ إِلَّا مُقَطَّعًا. قَالَ أَبُو دَاوُد: أَبُو قِلَابَةَ لَمْ يَلْقَ مُعَاوِيَةَ.

ترجمہ Book - حدیث 4239

کتاب: انگوٹھیوں سے متعلق احکام و مسائل باب: عورتوں کو سونا پہننا کیسا ہے ؟ سیدنا معاویہ بن ابوسفیان ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے چیتوں کے چمڑے کی گدی یا زین پوش پر بیٹھنے سے منع فرمایا ہے اور سونا پہننے سے بھی منع کیا ہے الا یہ کہ معمولی ہو ۔ “ امام ابوداؤد ؓ کہتے ہیں کہ ابوقلابہ کی سیدنا معاویہ ؓ سے ملاقات نہیں ہے ۔ سونے کے بارے میں تمام روایات کے مجموعے سے چند باتیں واضح ہو تی ہیں۔ اول یہ کہ اسکا جواز تو ضرور ہے لیکن ہمارے معاشرے میں اس کے استعمال کی جو صورتیں ہیں وہ سخت محلِ نظر ہیں مثلاََ زیورات بنانے اور استعمال کرنے کا شوق تو عام ہے لیکن اس کی زکوۃ ادا کرنے کی طرف توجہ بہت کم ہے چند فیصد عورتیں ہی اس کا اہتمام کرتی ہیں ظاہر بات ہے کہ اس طرح کا زیور جہنم ہی کا ایندھن ہے اَ عَاذَنَا الله منه ثانیاََ اصحابِ حیثیت لوگوں کی خواتین کو نئے نئے زیورات بنانے کا اتنا شوق ہوتا ہے کہ وہ خاندان کی ہر تقریب اور شادی پر کپڑوں کی طرح زیورات کی بھی نیا سیٹ تیار کروانا ضروری سمجھتی ہیں اسی لیئے کئی کئی سو تولہ سونا زیورات کی شکل میں اُمرا ءکے گھروں میں پڑا ہے جسکی مجوموعی مالیت اربوں سے متجاوز ہوکر شائد کھربوں میں پہنچتی ہو۔ یوں قوم کا اتنا بڑا سرمایہ کسی مصرف میں نہیں آتا۔ اگر کم از کم اتنے برے سرمائے کی زکوۃ ہی نکالی جاتی رہے تو غریب عوام کو بہت فائدہ ہو سکتا ہےاور اس کے انجماد کے مضرات کچھ کم ہو سکتے ہیں۔ ثالثاََ شادی کے موقعے پر حسبِ استطاعت زیورات کا بنا نا ضروری سمجھ لیا گیا ہے اور اس کے بغیر شادی کا تصور ہی نہیں کیا جاسکتا۔ اس تصور نے بھی کمتر حیثیت کے لوگوں کو مصیبت میں ڈالا ہوا ہے۔ اس تمام مفاسد کا حل یہی ہے جو اس حدیث میں اور دیگر روایات میں بیان ہوا ہےکہ سونے کے استعمال کو کم سے کم کیا جائے چند تولہ سونا(ساڑھے سات تولہ سے کم) زکوۃ سے بھی مستثنی ہے۔ جس کے پاس ساڑھے سات تولہ یا اس کے زیادہ ہو وہ زکوۃ کی ادائیگی کا اہتمام کرے اس طرح اسے شادی کے لیئے ضروری نہ سمجھا جائے اور اس کے لیئے بھی جہاد کیا جائے۔ وما علينا الا البلاغ