Book - حدیث 4202

كِتَابُ التَّرَجُّلِ بَابٌ فِي نَتْفِ الشَّيْبِ حسن صحيح حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا يَحْيَى ح، وحَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ الْمَعْنَى عَنِ ابْنِ عَجْلَانَ، عَنْ عَمْرِو، بْنِ شُعَيْبٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: >لَا تَنْتِفُوا الشَّيْبَ, مَا مِنْ مُسْلِمٍ يَشِيبُ شَيْبَةً فِي الْإِسْلَامِ قَالَ عَنْ سُفْيَانَ إِلَّا كَانَتْ لَهُ نُورًا يَوْمَ الْقِيَامَةِ- وَقَالَ فِي حَدِيثِ يَحْيَى إِلَّا كَتَبَ اللَّهُ لَهُ بِهَا حَسَنَةً، وَحَطَّ عَنْهُ بِهَا خَطِيئَةً.

ترجمہ Book - حدیث 4202

کتاب: بالوں اور کنگھی چوٹی کے احکام و مسائل باب: سفید بال نوچنے کا مسئلہ جناب عمرو بن شعیب اپنے والد سے وہ اپنے دادا سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ” سفید بال مت نوچا کرو ‘ جس کسی مسلمان کے بال حالت اسلام میں سفید ہو جائیں قیامت کے دن یہ اس کے لیے نور کا باعث ہوں گے ۔ “ اور یحییٰ کی روایت میں ہے ۔ ” اللہ تعالیٰ ایک ایک بال کے عوض اس کی نیکی لکھتا ہے اور ایک گناہ دور کرتا ہے ۔ “ سفید بال داڑھی میں ہوں یا سر میں اُنہیں اُکھیڑنا جائز نہیں ہے اور نہ کالا رنگ جا ئز ہے جیسے کہ اگلے باب میں مذکور ہے۔