Book - حدیث 420

كِتَابُ الصَّلَاةِ بَابٌ فِي وَقْتِ الْعِشَاءِ الْآخِرَةِ صحیح حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ حَدَّثَنَا جَرِيرٌ عَنْ مَنْصُورٍ عَنْ الْحَكَمِ عَنْ نَافِعٍ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ قَالَ مَكَثْنَا ذَاتَ لَيْلَةٍ نَنْتَظِرُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِصَلَاةِ الْعِشَاءِ فَخَرَجَ إِلَيْنَا حِينَ ذَهَبَ ثُلُثُ اللَّيْلِ أَوْ بَعْدَهُ فَلَا نَدْرِي أَشَيْءٌ شَغَلَهُ أَمْ غَيْرُ ذَلِكَ فَقَالَ حِينَ خَرَجَ أَتَنْتَظِرُونَ هَذِهِ الصَّلَاةَ لَوْلَا أَنْ تَثْقُلَ عَلَى أُمَّتِي لَصَلَّيْتُ بِهِمْ هَذِهِ السَّاعَةَ ثُمَّ أَمَرَ الْمُؤَذِّنَ فَأَقَامَ الصَّلَاةَ

ترجمہ Book - حدیث 420

کتاب: نماز کے احکام ومسائل باب: نماز عشاء کا وقت سیدنا عبداللہ بن عمر ؓ سے روایت ہے ، وہ بیان کرتے ہیں کہ ایک رات ہم نماز عشاء کے لیے رسول اللہ ﷺ کا انتظار کرتے رہے ۔ آپ ﷺ اس وقت تشریف لائے جب رات کا تہائی حصہ گزر چکا تھا یا اس سے بھی زیادہ ۔ نہ معلوم آپ ﷺ کسی کام میں مشغول ہو گئے تھے یا کوئی اور بات تھی ۔ آپ ﷺ جب تشریف لائے تو فرمایا ” کیا تم اس نماز کا انتظار کر رہے ہو ؟ اگر میری امت پر گراں نہ ہوتا تو میں ان کو یہ نماز اسی وقت پڑھاتا ۔ “ پھر آپ ﷺ نے مؤذن کو حکم دیا تو اس نے اقامت کہی ۔ : انتظار کرانے کامقصد یہ بھی ہوسکتا ہے کہ یہ لوگ عبادت کے ’’انتظار کاثواب ،، حاصل کرلیں اوران کوتاخیر کی فضیلت بھی بتادی جائے۔بہر حال اس سے عشاء کی نماز تاخیر سےپڑھنے کی فضیلت کااثبات ہوتا ہے۔