Book - حدیث 418

كِتَابُ الصَّلَاةِ بَابٌ فِي وَقْتِ الْمَغْرِبِ حسن صحيح حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَقَ حَدَّثَنِي يَزِيدُ بْنُ أَبِي حَبِيبٍ عَنْ مَرْثَدِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ لَمَّا قَدِمَ عَلَيْنَا أَبُو أَيُّوبَ غَازِيًا وَعُقْبَةُ بْنُ عَامِرٍ يَوْمَئِذٍ عَلَى مِصْرَ فَأَخَّرَ الْمَغْرِبَ فَقَامَ إِلَيْهِ أَبُو أَيُّوبَ فَقَالَ لَهُ مَا هَذِهِ الصَّلَاةُ يَا عُقْبَةُ فَقَالَ شُغِلْنَا قَالَ أَمَا سَمِعْتَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ لَا تَزَالُ أُمَّتِي بِخَيْرٍ أَوْ قَالَ عَلَى الْفِطْرَةِ مَا لَمْ يُؤَخِّرُوا الْمَغْرِبَ إِلَى أَنْ تَشْتَبِكَ النُّجُومُ

ترجمہ Book - حدیث 418

کتاب: نماز کے احکام ومسائل باب: نماز مغرب کا وقت جناب یزید بن ابی حبیب ، مرثد بن عبداللہ سے روایت کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ سیدنا ابوایوب ؓ ہمارے ہاں تشریف لائے ۔ وہ سفر جہاد میں تھے اور سیدنا عقبہ بن عامر ؓ ان دنوں مصر کے حاکم تھے ۔ تو ( جناب عقبہ نے ) نماز مغرب میں کچھ تاخیر کر دی ۔ سیدنا ابوایوب ؓ کھڑے ہوئے اور کہا : اے عقبہ ! یہ کیا نماز ہے ؟ کہا کہ ہم کام میں تھے ۔ کہا : کیا آپ نے نہیں سنا رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ” میری امت اس وقت تک خیر میں رہے گی ۔“ یا فرمایا ” فطرت پر رہے گی جب تک کہ مغرب کو مؤخر نہ کرے گی کہ ستارے نکل آئیں ۔ “ (1) صحابہ کرام کونماز کےمعاملے میں ذراسی سستی بھی از حد ناگوارگزرتی تھی اوروہ اس سلسلے میں اپنے رؤساء حکام پرتنقید سےبھی باز نہ آتے تھے اور وہ حکام بھی ایسی تعمیری اور شرعی تنقیدات کوخندہ پیشانی سےقبول کرتےتھے ۔ (2) نماز کوبروقت ادا کرنا بالخصوص مغرب کی........ امت کےفطرت اورخیر پرہونے کی علامت ہےاور اس میں تاخیر اس کےبرعکس کی ۔ (3) اگر کوئی عذر ہوتو مغرب کاوقت غروب شفق (سرخی ) سے پہلے تک باقی رہتا ہے ۔