Book - حدیث 4176

كِتَابُ التَّرَجُّلِ بَابٌ فِي الْخَلُوقِ لِلرِّجَالِ حسن حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ، أَخْبَرَنَا عَطَاءٌ الْخُرَاسَانِيُّ، عَنْ يَحْيَى بْنِ يَعْمَرَ، عَنْ عَمَّارِ بْنِ يَاسِرٍ، قَالَ: قَدِمْتُ عَلَى أَهْلِي لَيْلًا، وَقَدْ تَشَقَّقَتْ يَدَايَ، فَخَلَّقُونِي بِزَعْفَرَانٍ، فَغَدَوْتُ عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَسَلَّمْتُ عَلَيْهِ، فَلَمْ يَرُدَّ عَلَيَّ، وَلَمْ يُرَحِّبْ بِي، وَقَالَ: >اذْهَبْ فَاغْسِلْ هَذَا عَنْكَ<، فَذَهَبْتُ فَغَسَلْتُهُ، ثُمَّ جِئْتُ، وَقَدْ بَقِيَ عَلَيَّ مِنْهُ رَدْعٌ، فَسَلَّمْتُ، فَلَمْ يَرُدَّ عَلَيَّ، وَلَمْ يُرَحِّبْ بِي، وَقَالَ: اذْهَبْ فَاغْسِلْ هَذَا عَنْكَ، فَذَهَبْتُ فَغَسَلْتُهُ، ثُمَّ جِئْتُ، فَسَلَّمْتُ عَلَيْهِ، فَرَدَّ عَلَيَّ، وَرَحَّبَ بِي، وَقَالَ: إِنَّ الْمَلَائِكَةَ لَا تَحْضُرُ جَنَازَةَ الْكَافِرِ بِخَيْرٍ، وَلَا الْمُتَضَمِّخَ بِالزَّعْفَرَانِ، وَلَا الْجُنُبَ. قَالَ: وَرَخَّصَ لِلْجُنُبِ إِذَا نَامَ، أَوْ أَكَلَ، أَوْ شَرِبَ, أَنْ يَتَوَضَّأَ.

ترجمہ Book - حدیث 4176

کتاب: بالوں اور کنگھی چوٹی کے احکام و مسائل باب: مردوں کے لیے زعفران کا استعمال سیدنا عمار بن یاسر ؓ نے بیان کیا کہ میں ( سفر سے واپس آیا اور ) رات کو اپنے گھر والوں کے ہاں پہنچا جب کہ میرے ہاتھ پھٹ چکے تھے ‘ تو انہوں نے مجھے زعفران لگا دی ۔ میں صبح کے وقت نبی کریم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا اور سلام عرض کیا تو آپ ﷺ نے مجھے جواب دیا نہ خوش آمدید کہا : بلکہ فرمایا ” جاؤ اور اسے اپنے آپ سے دھو کر آؤ ۔ “ چنانچہ میں گیا اور اسے دھو ڈالا اور آپ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا جبکہ اس کا کچھ اثر اور داغ مجھ پر باقی رہ گیا تھا ۔ میں نے سلام پیش کیا تو آپ نے مجھے جواب نہ دیا ، نہ خوش آمدید کہا : اور فرمایا ” جاؤ اور اسے اپنے آپ سے دھو کر آؤ ۔ “ چنانچہ میں گیا اور اسے ( دوبارہ ) دھو کر حاضر خدمت ہوا اور سلام کہا : تو آپ نے مجھے جواب دیا اور خوش آمدید بھی کہا اور فرمایا ” بالاشبہ فرشتے کافر کے جنازے پر خیر کے ساتھ حاضر نہیں ہوتے اور نہ ایسے آدمی کے پاس آتے ہیں جس نے زعفران لگائی ہو اور نہ جنبی کے پاس آتے ہیں ۔ “ البتہ جنبی کے لیے رخصت دی کہ جب وہ سونا یا کھانا پینا چاہے تو وضو کر لے ۔ ) یہ روایت اگرچہ سندَا ضعیف ہے تاہم اس روایت میں مذکور باتیں دیگر صحیح احادیث سے ثابت ہیں علما ازیں شیخ البانیؒ نے اس رویت کو بھی التعلیق ا لرغیب(1/91) میں حسن کہا ہے۔ 2) نہی عن المنکر کا ایک انداز یہ بھی ہے کہ گناہ کے مرتکب کے سلام کا جواب نہ دیا جائےاور بات چیت ترک کر دی جائے۔ مگر ظاہر ہےکہ سلام چھوڑ دینا ایک سزا ہے اور اس کے لیئےپہلے متعلقہ شخص کا عذر دور کردینا ضروری ہے یعنی دین سمجھانے میں محنت کی گئی ہوتبھی یہ سزا دینی چاہیئے اور پھر یہ انداز وہیں کامیاب اور مفید ہو تا ہے جب متعلقہ فرد دینی اعتبار سےخوب سمجھدار اور حساس ہو۔ غبی آدمی اس کے کچھ اور ہی مفہوم لے گا 3) مردوں کو زعفران کے استعمال سے پر ہیز کرنا چاہیئے۔