Book - حدیث 4159

كِتَابُ التَّرَجُّلِ بَابٌ النَهىُ عَن كَثِيرِِ، مِنَ الإِرفَاةِ صحیح حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا يَحْيَى، عَنْ هِشَامِ بْنِ حَسَّانَ عَنِ الْحَسَنِ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُغَفَّلٍ قَالَ: نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنِ التَّرَجُّلِ إِلَّا غِبًّا.

ترجمہ Book - حدیث 4159

کتاب: بالوں اور کنگھی چوٹی کے احکام و مسائل باب: بہت زیادہ کنگھی چوٹی ( اور زیب و زینت ) کی ممانعت کا بیان سیدنا عبداللہ مغفل ؓ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے کنگھی کرنے سے منع فرمایا ہے سوائے اس کے ایک دن چھوڑ کر ہو ۔ اس روایت کی کی سند میں کچھ ضعف ہے، تاہم وہ سنن نسائی کی صحیح روایت سے دور ہو جاتا ہےجس میں ہے۔ اللہ کے بنی ﷺہمیں اِرُفاہ سےمنع فرماتے تھے ہم نے پوچھا اِرُفاہ کیا ہے؟ تو آپ نے فرمایا روزانہ کنگھی کرنا ۔ گو یا روزانہ کنگھی کرنا اور بننا سنورنا ممنوع ہے۔ علاوہ ازیں مسلمان مرد یا عورت کا اپنی زیب و زینت میں ہی مگن رہنا شرعی ذوق و مزاج کے خلاف ہے اور اس حدیث میں مذکور یہ نفی بالخصوص اس دور کی ثقافت کے پیشِ نظر ہے ہ وہ لوگ لمبے بال رکھتے تھے اور اُنھیں کھولنے سنوارنے میں خاص محنت کرنی پڑتی تھی اور وقت بھی بہت صرف ہو تا تھا۔ اور آج کل بھی عورتوں میں ہی نہیں مردوں میں بھی بناؤ سنگھا ر کا شوق اور رواج روز افزوں ہے اس لیئے بننے سنورنے کا یہ شوقِ فراواں یقیناََ ناپسندیدہ ہے نیز افراط و تبزیر کا بھی مصداق ہےجو ایک شیطانی کام ہے اس لیئے اس کی اجازت ضرور ہے مگر اعتدال لے ساتھ اور ایک سن چھوڑ کر۔