Book - حدیث 4153

كِتَابُ اللِّبَاسِ بَابٌ فِي الصُّوَرِ صحیح حَدَّثَنَا وَهْبُ بْنُ بَقِيَّةَ، أَخْبَرَنَا خَالِدٌ، عَنْ سُهَيْلٍ يَعْنِي ابْنَ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ يَسَارٍ الْأَنْصَارِيِّ، عَنْ زَيْدِ بْنِ خَالِدٍ الْجُهَنِيِّ، عَنْ أَبِي طَلْحَةَ الْأَنْصَارِيِّ، قَالَ: سَمِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: >لَا تَدْخُلُ الْمَلَائِكَةُ بَيْتًا فِيهِ كَلْبٌ وَلَا تِمْثَالٌ< وَقَالَ: انْطَلِقْ بِنَا إِلَى أُمِّ الْمُؤْمِنِينَ عَائِشَةَ نَسْأَلْهَا عَنْ ذَلِكَ، فَانْطَلَقْنَا، فَقُلْنَا: يَا أُمَّ الْمُؤْمِنِينَ! إِنَّ أَبَا طَلْحَةَ حَدَّثَنَا عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، بِكَذَا وَكَذَا، فَهَلْ سَمِعْتِ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَذْكُرُ ذَلِكَ؟ قَالَتْ: لَا، وَلَكِنْ سَأُحَدِّثُكُمْ بِمَا رَأَيْتُهُ فَعَلَ، خَرَجَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي بَعْضِ مَغَازِيهِ، وَكُنْتُ أَتَحَيَّنُ قُفُولَهُ، فَأَخَذْتُ نَمَطًا كَانَ لَنَا، فَسَتَرْتُهُ عَلَى الْعَرَضِ، فَلَمَّا جَاءَ اسْتَقْبَلْتُهُ، فَقُلْتُ: السَّلَامُ عَلَيْكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ! وَرَحْمَةُ اللَّهِ وَبَرَكَاتُهُ, الْحَمْدُ لِلَّهِ الَّذِي أَعَزَّكَ وَأَكْرَمَكَ، فَنَظَرَ إِلَى الْبَيْتِ، فَرَأَى النَّمَطَ، فَلَمْ يَرُدَّ عَلَيَّ شَيْئًا، وَرَأَيْتُ الْكَرَاهِيَةَ فِي وَجْهِهِ، فَأَتَى النَّمَطَ حَتَّى هَتَكَهُ، ثُمَّ قَالَ: >إِنَّ اللَّهَ لَمْ يَأْمُرْنَا فِيمَا رَزَقَنَا أَنْ نَكْسُوَ الْحِجَارَةَ، وَاللَّبِنَ<. قَالَتْ: فَقَطَعْتُهُ وَجَعَلْتُهُ وِسَادَتَيْنِ، وَحَشَوْتُهُمَا لِيفًا، فَلَمْ يُنْكِرْ ذَلِكَ عَلَيَّ.

ترجمہ Book - حدیث 4153

کتاب: لباس سے متعلق احکام و مسائل باب: تصاویر سے متعلق احکام و مسائل سیدنا ابوطلحہ انصاری ؓ کہتے ہیں کہ میں نے نبی کریم ﷺ کو فرماتے سنا ” جس گھر میں کتا ہو یا بت وہاں فرشتے داخل نہیں ہوتے ۔ “ زید بن خالد نے ابوطلحہ سے کہا : چلو ام المؤمنین سیدہ عائشہ ؓا سے اس بارے میں پوچھتے ہیں ۔ چنانچہ ہم چل دیے ۔ ہم نے کہا : اے ام المؤمنین ! ابوطلحہ ہمیں رسول اللہ ﷺ سے یوں یوں بیان کرتے ہیں ۔ کیا آپ نے بھی نبی کریم ﷺ کو یہ بیان کرتے سنا ہے ؟ انہوں نے کہا : نہیں ۔ لیکن میں تمہیں وہ بتاتی ہوں جو میں نے انہیں کرتے ہوئے دیکھا ہے ۔ رسول اللہ ﷺ اپنے ایک سفر میں تشریف لے گئے ۔ مجھے آپ ﷺ کی واپسی کا انتظار تھا ۔ میں نے اپنا ایک حاشیہ دار پردہ لیا اور اسے شہتیر کے ساتھ لٹکا دیا ۔ جب آپ ﷺ تشریف لائے تو میں نے استقبال کیا اور عرض کیا «السلام عليك يا رسول الله ورحمة الله وبركاته» ” حمد اس اللہ کی جس نے آپ کو عزت اور اکرام سے نوازا ہے ۔ آپ ﷺ نے گھر پر نظر ڈالی تو وہ حاشیہ دار پردہ دیکھا اور مجھے کوئی جواب نہ دیا ۔ مجھے آپ ﷺ کے چہرے پر ناگواری محسوس کوئی ۔ پھر آپ ﷺ اس حاشیہ دار پردے کی طرف آئے اور اسے اتار پھینکا ‘ پھر فرمایا ” بیشک اللہ کے ہمیں ہمارے رزق میں یہ حکم نہیں دیا کہ اینٹوں اور پتھروں کو کپڑے پہناتے پھریں ۔ “ کہتی ہیں چنانچہ میں نے اس کو پھاڑ کر دو تکیے بنا لیے اور ان میں کھجور کی چھال بھر دی ۔ تو اس پر آپ ﷺ نے مجھے کچھ نہیں کہا ۔ 1 : اگر اس پردے میں کوئی جاندار تصاویر سمجھی جائیں تو پھاڑ دینے سے زائل ہو گئیں اور انہیں تکیے وغیرہ میں استعمال کرنا جائز ہو گیا ۔ 2 :بے مقصد طور دیواروں پر پردے لٹکانا اسراف اور فضول خرچی ہے جو قطعاحرام ہے 3 : کتا اگر رکھوالی کے لئے ہو تو جائز ہے ورنہ نہیں 4 : ذی روح اشیا کی تصاویریا ان کے بت گھروں اور دکانوں وغیر ہ میں رکھنے حرام ہیں ۔ ان کی وجہ سے رحمت کے فرشتے داخل نہیں ہوتے 5 : یہ حدیث غیر شرعی اورمنکر کام کرنے والے کو اس کے سلام جواب نہ دینے پر بھی دلالت کرتی ہے ۔ 6 : یہ حدیث صدیق اکبر کی بیٹی صدیقہ وعفیفہ کا ئنات ام المومنین سیدہ عائشہ رضی اللہ کی عظمت اور فضیلت پر بھی دلالت کرتی ہے کہ وہ ہر حال میں رسول ؐ کو راضی اور خوش رکھنے کے لئے مستعدرہتی تھیں اور آپ کی رضا مندی آپ کی اطاعت ہی سے حاصل ہوسکتی ہے ۔۔۔۔۔۔اور ہے ۔