Book - حدیث 4149

كِتَابُ اللِّبَاسِ بَابٌ فِي اتِّخَاذِ السُّتُورِ صحیح حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ، حَدَّثَنَا فُضَيْلُ بْنُ غَزْوَانَ، عَنْ نَافِعٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَتَى فَاطِمَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا، فَوَجَدَ عَلَى بَابِهَا سِتْرًا فَلَمْ يَدْخُلْ- قَالَ: وَقَلَّمَا كَانَ يَدْخُلُ إِلَّا بَدَأَ بِهَا-، فَجَاءَ عَلِيٌّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، فَرَآهَا مُهْتَمَّةً، فَقَالَ: مَا لَكِ؟ قَالَتْ: جَاءَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَيَّ فَلَمْ يَدْخُلْ، فَأَتَاهُ عَلِيٌّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ! إِنَّ فَاطِمَةَ اشْتَدَّ عَلَيْهَا أَنَّكَ جِئْتَهَا فَلَمْ تَدْخُلْ عَلَيْهَا، قَالَ: >وَمَا أَنَا وَالدُّنْيَا! وَمَا أَنَا وَالرَّقْمَ<، فَذَهَبَ إِلَى فَاطِمَةَ فَأَخْبَرَهَا بِقَوْلِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَتْ، قُلْ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: مَا يَأْمُرُنِي بِهِ؟ قَالَ: >قُلْ لَهَا: فَلْتُرْسِلْ بِهِ إِلَى بَنِي فُلَانٍ<.

ترجمہ Book - حدیث 4149

کتاب: لباس سے متعلق احکام و مسائل باب: پردے لٹکانے کا بیان سیدنا عبداللہ بن عمر ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ سیدہ فاطمہ ؓا کے ہاں تشریف لے گئے ، ان کے دروازے پر پردہ دیکھا تو آپ ﷺ اندر داخل نہ ہوئے ۔ سیدنا عبداللہ ؓ کہتے ہیں : بہت کم ایسے ہوتا کہ آپ گھر جائیں ( اور ان کے ہاں نہ جائیں ) اور پھر ان کے ہاں سے ابتداء کرتے ۔ سیدنا علی ؓ آئے تو سیدہ فاطمہ ؓا کو دیکھا کہ غمگین ہیں ۔ پوچھا کہ تمہیں کیا ہوا ہے ؟ انہوں نے کہا : نبی کریم ﷺ میرے ہاں آئے تھے مگر اندر داخل نہیں ہوئے ۔ چنانچہ سیدنا علی ؓ آپ ﷺ کی خدمت میں پہنچے اور کہا : اے اللہ کے رسول ! فاطمہ کو یہ بات بڑی گراں گزری ہے کہ آپ اس کے ہاں گئے مگر اندر داخل نہیں ہوئے ۔ آپ ﷺ نے فرمایا ” میں کیا اور دنیا کیا ؟ ( مجھے دنیا سے کیا سروکار ؟ ) میں کیا اور نقش دار پردے کیا ؟ “ ( میرا ان سے کیا واسطہ ) چنانچہ وہ فاطمہ ؓا کے پاس گئے اور اسے رسول اللہ ﷺ کی بات بتلائی ۔ پس انہوں نے کہا : رسول اللہ ﷺ سے پوچھیں کہ میرے لیے کیا حکم ہے ؟ آپ ﷺ نے فرمایا ” اسے کہو کہ اسے بنی فلاں کے پاس بھیج دے ۔“