Book - حدیث 4114

كِتَابُ اللِّبَاسِ بَابٌ فِي قَوْلِهِ عَزَّ وَجَلّ:َ {وَقُلْ لِلْمُؤْمِنَاتِ يَغْضُضْنَ حسن حَدَّثَنَا زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ حَدَّثَنَا وَكِيعٌ حَدَّثَنِي دَاوُدُ بْنُ سَوَّارٍ الْمُزَنِيُّ عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ عَنْ أَبِيهِ عَنْ جَدِّهِ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ إِذَا زَوَّجَ أَحَدُكُمْ خَادِمَهُ عَبْدَهُ أَوْ أَجِيرَهُ فَلَا يَنْظُرْ إِلَى مَا دُونَ السُّرَّةِ وَفَوْقَ الرُّكْبَةِ قَالَ أَبُو دَاوُد وَصَوَابُهُ سَوَّارُ بْنُ دَاوُدَ الْمُزَنِيُّ الصَّيْرَفِيُّ وَهِمَ فِيهِ وَكِيعٌ

ترجمہ Book - حدیث 4114

کتاب: لباس سے متعلق احکام و مسائل باب: اللہ کے فرمان «وقل للمؤمنات يغضضن من أبصارهن» کی تفسیر جناب عمرو بن شعیب اپنے والد سے وہ اپنے دادا سے روایت کرتے ہیں کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا ” تم میں سے جب کوئی اپنی خادمہ کی اپنے غلام یا نوکر سے شادی کر دے تو اب اس خادمہ کی ناف سے لے کر گھٹنے سے اوپر تک کے حصہ کو مت دیکھے ۔ “ امام ابوداؤد ؓ کہتے ہیں کہ سند میں راوی ( داود بن سوار ) کا صحیح نام سوار بن داود مزنی صیرفی ہے ۔ اس میں وکیع کو وہم ہوا ہے ۔ مالک کو حق حاصل ہے کہ اپنی باندی سے جنسی فائدہ حاصل کرے مگر جب وہ اپنے حق سے دستبردارہو گیا اور اس شادی کردی تو اس کے لئے اس باندی کے خاص ستر دیکھنا بھی حرام ہو گیا ۔