Book - حدیث 4083

كِتَابُ اللِّبَاسِ بَابٌ فِي التَّقَنُّعِ صحیح حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ دَاوُدَ بْنِ سُفْيَانَ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ قَالَ قَالَ الزُّهْرِيُّ قَالَ عُرْوَةُ قَالَتْ عَائِشَةُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا بَيْنَا نَحْنُ جُلُوسٌ فِي بَيْتِنَا فِي نَحْرِ الظَّهِيرَةِ قَالَ قَائِلٌ لِأَبِي بَكْرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ هَذَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مُقْبِلًا مُتَقَنِّعًا فِي سَاعَةٍ لَمْ يَكُنْ يَأْتِينَا فِيهَا فَجَاءَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَاسْتَأْذَنَ فَأُذِنَ لَهُ فَدَخَلَ

ترجمہ Book - حدیث 4083

کتاب: لباس سے متعلق احکام و مسائل باب: سر اور کچھ چہرہ ڈھانپنے ( ڈھاٹا باندھنے ) کا بیان ام المؤمنین سیدہ عائشہ ؓا بیان کرتی ہیں کہ ( مکہ کے دنوں کا ذکر ہے کہ ) عین دوپہر کے وقت ہم اپنے گھر میں بیٹھے ہوئے تھے کہ کسی نے سیدنا ابوبکر ؓ سے کہا : یہ سر اور چہرہ ڈھانپے ( ڈھاٹا باندھے ) رسول اللہ ﷺ تشریف لا رہے ہیں اور ایسے وقت میں آ رہے ہیں جو آپ کا معمول نہیں ۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے اندر آنے کی اجازت چاہی ، آپ کو اجازت دی گئی تو آپ اندر آ گئے 1 : یہ واقعہ سفر ہجرت کی تیاری کے دنوں کا ہے 2 : مرد کے لئے مباح ہے کہ موسم یا احوال کی مناسبت سے سر اور چہرہ ڈھانپ لے تو کوئی حرج نہیں ،کبھی حیا سے بھی ایسا ہو سکتا ہے 3 : دوسرے کے گھر میں خواہ وہ کتنا ہی قریبی کیوں نہ ہواجازت لے کراندرجاناچاہیے۔