Book - حدیث 4036

كِتَابُ اللِّبَاسِ بَاب لِبَاسِ الْغَلِيظِ صحيح حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَعِيلَ حَدَّثَنَا حَمَّادٌ ح و حَدَّثَنَا مُوسَى حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ يَعْنِي ابْنَ الْمُغِيرَةِ الْمَعْنَى عَنْ حُمَيْدِ بْنِ هِلَالٍ عَنْ أَبِي بُرْدَةَ قَالَ دَخَلْتُ عَلَى عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا فَأَخْرَجَتْ إِلَيْنَا إِزَارًا غَلِيظًا مِمَّا يُصْنَعُ بِالْيَمَنِ وَكِسَاءً مِنْ الَّتِي يُسَمُّونَهَا الْمُلَبَّدَةَ فَأَقْسَمَتْ بِاللَّهِ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قُبِضَ فِي هَذَيْنِ الثَّوْبَيْنِ

ترجمہ Book - حدیث 4036

کتاب: لباس سے متعلق احکام و مسائل باب: موٹا لباس پہننا سیدنا ابوبردہ ؓ کہتے ہیں کہ میں ام المؤمنین سیدہ عائشہ ؓا کے ہاں حاضر ہوا تو انہوں نے ہمیں ایک موٹا تہبند دکھایا جیسے کہ یمن میں بنتے ہیں اور ایک اونی چادر جسے «ملبدة» کہتے ہیں ( بوجہ پیوند لگے ہونے کے یا موٹا ہونے کے اسے ملبدہ کہا گیا ہے ) انہوں نے اللہ کی قسم اٹھائی اور کہا : بلاشبہ رسول اللہ ﷺ کی وفات ان دو کپڑوں میں ہوئی تھی ۔ موٹے لباس سے طبعیت میں قوت وصلابت اورمردانہ صفات اجاگر ہوتی ہیں ،چنانچہ امیر المومنین حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ اپنے عمال کو موٹا لباس پہننےکا پابند کیا کرتے تھےجبکہ باریک اور ملائم لباس سے طبعیت میں نزاکت بڑھتی ہے تاہم حسب احوال ومصالح اونی ،سوتی، موٹا یاباریک لباس پہننا مباح ہے۔