Book - حدیث 3970

كِتَابُ الْحُرُوفِ وَالْقِرَاءَاتِ بَابٌ... صحیح حَدَّثَنَا مُوسَى يَعْنِي ابْنَ إِسْمَعِيلَ حَدَّثَنَا حَمَّادٌ عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ عَنْ عُرْوَةَ عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا أَنَّ رَجُلًا قَامَ مِنْ اللَّيْلِ فَقَرَأَ فَرَفَعَ صَوْتَهُ بِالْقُرْآنِ فَلَمَّا أَصْبَحَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَرْحَمُ اللَّهُ فُلَانًا كَائِنْ مِنْ آيَةٍ أَذْكَرَنِيهَا اللَّيْلَةَ كُنْتُ قَدْ أُسْقِطْتُهَا

ترجمہ Book - حدیث 3970

کتاب: قرآن کریم کی بابت لہجوں اور قراءتوں کا بیان باب:... ام المؤمنین سیدہ عائشہ صدیقہ ؓا کا بیان ہے کہ ایک شخص نے رات کو قیام کیا اور قرآت قرآن میں اپنی آواز بلند کی ۔ صبح ہوئی تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ” اللہ فلاں پر رحم فرمائے ! اس نے آج رات مجھے کتنی ہی آیات یاد دلا دیں جن سے مجھے ذہول ہو رہا تھا ۔ “ )یہ حدیث پیچھےمیں گزر چکی ہے۔ اس کے فوائد ومسائل بھی ملاخط ہوں۔ اور رسول اللہﷺ کو عارضی طور پربھول کا لاحق ہو جاناان کے مقام نبوت کےمنافی نہیں ہے۔آپ نے فرمایا جیسے تم بھول جاتےہو میں بھی بھول جاتاہوں ۔ 2)کسی پردہ نشین کی شکل دیکھے بگیر اس کی آواز پہچان کر گواہی قبول کرنا جائز ہے، اور اسی طرح قاضی نابینہ ہو تواس کا آواز پہچان کرمدعی اور مدعا علیہ کے بیانات سن کر فیصلے کرنا جائزاور درست ہے۔ مگر کلی نسیان کہ حافظہ ہی خراب ہوجائے نبی کے لئے یہ ناممکن ہے۔ 3)حدیث میں وارد لفظ(کابن) کئی نسخوںمیں کائن بروزن قائم نقل ہوا ہےاور استدلال یہ ہےکہ قرآن مجیدمیں وارد میں ایک قراءت کائن بروزن قائم بھی ہے۔(ترجمہ آیت) بہت سے نبیوں سے ہمرکاب ہو کربہت سے اللہ والے جہاد کرچکے ہیں انہیں بھی اللہ کی راہ میں تکلیفیں پہنچیں لیکن نہ توانہوں نے ہمت ہاری، نہ سست رہے اور نہ دبے رہےاور اللہ تعالی صبر کرنے والوںہی کو چاہتا ہے ۔