Book - حدیث 397

كِتَابُ الصَّلَاةِ بَابٌ فِي وَقْتِ صَلَاةِ النَّبِيِّ ﷺ وَكَيْفَ كَانَ يُصَلِّيهَا صحیح حَدَّثَنَا مُسْلِمُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ سَعْدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرٍو وَهُوَ ابْنُ الْحَسَنِ بْنِ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ قَالَ سَأَلْنَا جَابِرًا عَنْ وَقْتِ صَلَاةِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ كَانَ يُصَلِّي الظُّهْرَ بِالْهَاجِرَةِ وَالْعَصْرَ وَالشَّمْسُ حَيَّةٌ وَالْمَغْرِبَ إِذَا غَرَبَتْ الشَّمْسُ وَالْعِشَاءَ إِذَا كَثُرَ النَّاسُ عَجَّلَ وَإِذَا قَلُّوا أَخَّرَ وَالصُّبْحَ بِغَلَسٍ

ترجمہ Book - حدیث 397

کتاب: نماز کے احکام ومسائل باب: نبیﷺ کی نمازوں کے اوقات اور آپ کا طریقہ نماز جناب محمد بن عمرو ( محمد بن عمرو بن حسن بن علی بن ابی طالب ) کہتے ہیں کہ ہم نے سیدنا جابر ؓ سے رسول اللہ ﷺ کی نمازوں کے اوقات پوچھے تو انہوں کہا کہ آپ ظہر کی نماز سخت گرمی کے وقت میں پڑھا کرتے تھے ( یعنی زوال کے بعد اول وقت میں پڑھتے تھے ) اور عصر اس وقت ادا کرتے تھے جب کہ سورج زندہ ہوتا ( یعنی اس میں چمک اور تپش باقی ہوتی ) اور مغرب اس وقت پڑھتے جب سورج غروب ہو جاتا اور عشاء میں جب لوگ پہلے جمع ہو جاتے تو جلدی کرتے اور جب کم ہوتے تو تاخیر کر لیتے اور فجر کی نماز اندھیرے میں پڑھا کرتے تھے ۔ اہل بیت نبوی ہم تمام مسلمانوں کےمحبوب ومکرم افراد ہیں۔ان پر اللہ کی بے حد وبے شمار رحمتیں ہوں۔ ان کا خاندان کرہ ارضی پربے مثل وبے مثال خاندان ہے۔ ان کا امتیاز یہ ہےکہ وہ اسوہ رسول کےحامل اورمبلغ تھے جیسے کہ یہ حدیث حضرت علی کےپڑپوتے جناب محمدبن عمرو  نے نقل کی ہے۔