Book - حدیث 3964

كِتَابُ الْعِتْقِ بَابٌ فِي ثَوَابِ الْعِتْقِ ضعيف حَدَّثَنَا عِيسَى بْنُ مُحَمَّدٍ الرَّمْلِيُّ حَدَّثَنَا ضَمْرَةُ عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ أَبِي عَبْلَةَ عَنْ الْغَرِيفِ بْنِ الدَّيْلَمِيِّ قَالَ أَتَيْنَا وَاثِلَةَ بْنَ الْأَسْقَعِ فَقُلْنَا لَهُ حَدِّثْنَا حَدِيثًا لَيْسَ فِيهِ زِيَادَةٌ وَلَا نُقْصَانٌ فَغَضِبَ وَقَالَ إِنَّ أَحَدَكُمْ لَيَقْرَأُ وَمُصْحَفُهُ مُعَلَّقٌ فِي بَيْتِهِ فَيَزِيدُ وَيَنْقُصُ قُلْنَا إِنَّمَا أَرَدْنَا حَدِيثًا سَمِعْتَهُ مِنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ أَتَيْنَا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي صَاحِبٍ لَنَا أَوْجَبَ يَعْنِي النَّارَ بِالْقَتْلِ فَقَالَ أَعْتِقُوا عَنْهُ يُعْتِقْ اللَّهُ بِكُلِّ عُضْوٍ مِنْهُ عُضْوًا مِنْهُ مِنْ النَّارِ

ترجمہ Book - حدیث 3964

کتاب: غلاموں کی آزادی سے متعلق احکام و مسائل باب: غلام آزاد کرنے کا ثواب غریف بن دیلمی کہتے ہیں کہ ہم سیدنا واثلہ بن اسقع ؓ کی خدمت میں حاضر ہوئے اور ان سے کہا : ہمیں حدیث بیان کیجئیے جس میں کوئی کمی بیشی نہ ہو ‘ تو وہ غصے ہو گئے اور کہنے لگے : بلاشبہ تم میں کئی ایسے ہیں جو قرآن کی قرآت کرتے ہیں اور اس میں کمی بیشی کر جاتے ہیں ‘ حالانکہ قرآن اس کے اپنے گھر میں لٹکا ہوا ہوتا ہے ؟ ہم نے کہا : ہمارا مقصد ہے کہ ایسی حدیث بیان فرمائیں جو آپ نے رسول اللہ ﷺ سے سنی ہے ۔ انہوں نے کہا : ہم اپنے ایک آدمی کے سلسلے میں نبی کریم ﷺ کے پاس حاضر ہوئے جو قتل کی وجہ سے جہنم کا مستحق ہو چکا تھا ‘ تو آپ ﷺ نے فرمایا ” اس کی طرف سے غلام آزاد کر دو ‘ اللہ عزوجل اس کے ہر ہر عضو کے بدلے اس کا ایک ایک عضو آگ سے آزاد فر دے گا ۔ “ قتل کےسلسلے میں صرف غلام آزاد کردینا کافی نہیں ہے۔البتہ مسلمان غلام کوآزاد کر نے کی مذکورہ فضیلت اورترغیب صحیح حدیث سے ہے جیسے کہ اگلے باب میں آرہاہے۔نیز صیح بخاری میں حضرت ابو ہریرہ سے مروی ہے کہ نبیﷺنے فرمایا : جس شخص نے کسی مسلمان غلام کوآزاد کیا تو اللہ تعالی اس کے ہر ہرعضو کے بدلےمیں اس کا ایک ایک عضو آگ سے بچا دے گا۔