Book - حدیث 3912

كِتَابُ الكَهَانَةِ وَالتَطَيُّرِ بَابٌ فِي الطِّيَرَةِ صحیح حَدَّثَنَا الْقَعْنَبِيُّ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ يَعْنِي ابْنَ مُحَمَّدٍ عَنْ الْعَلَاءِ عَنْ أَبِيهِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَا عَدْوَى وَلَا هَامَةَ وَلَا نَوْءَ وَلَا صَفَرَ

ترجمہ Book - حدیث 3912

کتاب: کہانت اور بدفالی سے متعلق احکام و مسائل باب: بدشگونی کا بیان سیدنا ابوہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ” کوئی بیماری متعدی نہیں ہوتی ‘ نہ کسی مردے سے کوئی الو نکلتا ہے ، نہ کسی ستارے کی کوئی تاثیر ہے اور نہ صفر کا مہینہ منحوس ہے ۔ “ 1) اہلِ عرب کے توہمات میں یہ بات بھی تھی کہ اگر کو ئی قتل ہو جائے اوراسکا بدلہ نہ لیا جائے تو اس مردے کی کھوپڑی سےایک پرندہ(اُلو) نکلتاہے جو اس کے اُوپر منڈلاتا رہتا ہےاورآواز لگاتا ہے پیاس ، پیاس۔ اگر بدلہ لے لیا جائے تو وہ مطمئن ہو جاتا ہے ورنہ نہیں۔ اس وہم کی بنا پر وہ لوگ جیسے بھی بن پڑتابدلہ لینے پر اصرار کرتے تھے۔ 2) کچھ لوگ صفر کو مہینے کو منحوس جانتے تھےاور اس میں اہم کام سر انجام نہیں دیتے تھے۔اسکا ایکدووسرا مفہہوم اگلی روایت 3914 میں آرہا ہے۔