Book - حدیث 391

كِتَابُ الصَّلَاةِ بَابُ فَرْضِ الصَّلَاةِ صحیح حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْلَمَةَ، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ عَمِّهِ أَبِي سُهَيْلِ بْنِ مَالِكٍ، عَنْ أَبِيهِ، أَنَّهُ سَمِعَ طَلْحَةَ بْنَ عُبَيْدِ اللَّهِ يَقُولُ: جَاءَ رَجُلٌ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ أَهْلِ نَجْدٍ ثَائِرَ الرَّأْسِ يُسْمَعُ دَوِيُّ صَوْتِهِ وَلَا يُفْقَهُ مَا يَقُولُ: حَتَّى دَنَا، فَإِذَا هُوَ يَسْأَلُ عَنِ الْإِسْلَامِ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «خَمْسُ صَلَوَاتٍ فِي الْيَوْمِ وَاللَّيْلَةِ». قَالَ: هَلْ عَلَيَّ غَيْرُهُنَّ؟ قَالَ: «لَا إِلَّا أَنْ تَطَّوَّعَ». قَالَ: وَذَكَرَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «صِيَامَ شَهْرِ رَمَضَانَ». قَالَ: هَلْ عَلَيَّ غَيْرُهُ؟ قَالَ: «لَا إِلَّا أَنْ تَطَّوَّعَ». قَالَ: وَذَكَرَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الصَّدَقَةَ. قَالَ: فَهَلْ عَلَيَّ غَيْرُهَا؟ قَالَ: «لَا إِلَّا أَنْ تَطَّوَّعَ». فَأَدْبَرَ الرَّجُلُ وَهُوَ يَقُولُ: وَاللَّهِ لَا أَزِيدُ عَلَى هَذَا وَلَا أَنْقُصُ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «أَفْلَحَ إِنْ صَدَقَ»

ترجمہ Book - حدیث 391

کتاب: نماز کے احکام ومسائل باب: نماز کی فرضیت کا بیان سیدنا طلحہ بن عبیداللہ ؓ بیان کرتے ہیں کہ اہل نجد میں سے ایک شخص رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں آیا ۔ اس کے سر کے بال بکھرے ہوئے تھے ۔ اس کی آواز کی گنگناہٹ سنی جا رہی تھی مگر سمجھ میں نہ آتا تھا کہ کیا کہہ رہا ہے ‘ حتیٰ کہ ( نبی کریم ﷺ کے ) قریب آ گیا تو وہ اسلام کے بارے میں پوچھ رہا تھا ۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ” دن اور رات میں پانچ نمازیں ہیں ۔ “ کہنے لگا : کیا ان کے علاوہ بھی مجھ پر کچھ ہے ؟ آپ ﷺ نے فرمایا ” نہیں الا یہ کہ تو نفل پڑھنا چاہے ۔ “ راوی نے کہا : رسول اللہ ﷺ نے اس سے رمضان کے روزوں کا ذکر فرمایا تو اس نے کہا : کیا مجھ پر اس کے علاوہ بھی ہیں ؟ آپ ﷺ نے فرمایا ” نہیں الا یہ کہ تو نفل رکھنا چاہے ۔ “ راوی نے کہا : اور آپ ﷺ نے اس کو صدقہ ( زکوٰۃ ) کا بھی بتایا تو اس نے کہا : کیا مجھ پر اس کے علاوہ بھی ہے ؟ آپ ﷺ نے فرمایا ” نہیں ‘ ہاں اگر تو نفل دینا چاہے ۔ “ چنانچہ وہ آدمی واپس ہوا اور کہہ رہا تھا : اللہ کی قسم ! میں اس سے زیادہ کروں گا نہ کم ۔ تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ” کامیاب ہوا اگر ثابت قدم رہا ۔ “ اسلام حجاز کےماحول میں شروع ہوا تواجنبی اورنامانوس تھا،مگر جب اس کی حقانیت کا چرچا ہوگیا تودشت وجبل کے باسیوں کےافکار بھی تبدیل ہوگئے ۔ان پر دنیا کےمال ومنال کےبجائے اللہ کےساتھ تعلق ، دین کی استواری اور آخرت کا فکر غالب آگیا ۔ اس وسائل کی فطری سادگی نےاسے سمجھا یا کہ حق کا راستہ صاف اورمختصر ہے۔ اس سوال وجواب سےمعلوم ہوا کہ سنتیں ، وتر،، تحیۃ المسجد اورنماز عید وغیرہ بینادی طور پر نوافل ہی ہیں ، مگر بقول علامہ سندھی سنتوں کےترک کواپنی عادت بنا لینا دین میں بہت بڑا نقص اورخسارہ ہے۔ یہ لوگ چونکہ جدید الاسلام تھے ، اس لیے اللہ کےرسول ﷺ نےان سےاسی قدر پرکفایت فرمائی تاکہ دین ان کےلیے بوجھ نہ بنے اوریہ بددل نہ ہوجائیں ،مگر جب ان کے سینے کھل گئے تواجروثواب کےاز حد حریص بن گئے اورنوافل پرعمل ان کےلیے بہت ہی آسان ہوگیا ۔ اس لیے ایک مسلمان کوفرائض کےساتھ نوافل سےہرگز دل نہیں چرانا چاہیے ۔