Book - حدیث 3892

كِتَابُ الطِّبِّ بَابٌ كَيْفَ الرُّقَى ضعیف حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ خَالِدِ بْنِ مَوْهَبٍ الرَّمْلِيُّ حَدَّثَنَا اللَّيْثُ عَنْ زِيَادَةَ بِنِ مُحَمَّدٍ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ كَعْبٍ الْقُرَظِيِّ عَنْ فَضَالَةَ بْنِ عُبَيْدٍ عَنْ أَبِي الدَّرْدَاءِ قَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ مَنْ اشْتَكَى مِنْكُمْ شَيْئًا أَوْ اشْتَكَاهُ أَخٌ لَهُ فَلْيَقُلْ رَبَّنَا اللَّهُ الَّذِي فِي السَّمَاءِ تَقَدَّسَ اسْمُكَ أَمْرُكَ فِي السَّمَاءِ وَالْأَرْضِ كَمَا رَحْمَتُكَ فِي السَّمَاءِ فَاجْعَلْ رَحْمَتَكَ فِي الْأَرْضِ اغْفِرْ لَنَا حُوبَنَا وَخَطَايَانَا أَنْتَ رَبُّ الطَّيِّبِينَ أَنْزِلْ رَحْمَةً مِنْ رَحْمَتِكَ وَشِفَاءً مِنْ شِفَائِكَ عَلَى هَذَا الْوَجَعِ فَيَبْرَأَ

ترجمہ Book - حدیث 3892

کتاب: علاج کے احکام و مسائل باب: دم کیسے کیا جائے ؟ سیدنا ابوالدرداء ؓ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ سے سنا ‘ آپ ﷺ فرماتے تھے ” تم میں سے جس کو کوئی تکلیف ہو جائے یا اس کا بھائی بیمار ہو جائے تو اسے یوں دم کرے «ربنا الله الذي في السماء تقدس اسمك أمرك في السماء والأرض ك رحمتك في السماء فاجعل رحمتك في الأرض اغفر لنا حوبنا وخطايانا أنت رب الطيبين أنزل رحمة من رحمتك وشفاء من شفائك على هذا الوجع» ” ہمارا رب اللہ ہے جو آسمان میں ہے ۔ ( اے اللہ ! ) تیرا نام مقدس ہے ‘ آسمان اور زمین میں تیرا حکم نافذ ہے ‘ تیری رحمت جس طرح آسمان میں ( عام ) ہے زمین میں بھی ( عام ) کر دے ‘ ہمارے گناہ اور خطائیں معاف کر دے ‘ تو پاک لوگوں کا رب ہے ‘ اپنی رحمت اور شفاء کا ایک حصہ اس بیماری پر نازل فر دے ۔ “ تو وہ شفاء پا جائے گا ۔ “ یہ روایت سندَا ضعیف ہے تاہم دم کے بارے میں اور بہت سی صحیح احادیث میں مسنون دم موجود ہیں اور خود رسول اللہﷺسے ثابت ہیں لہذا یہ کوشش کی جائےکہ مریض پر وہی کچھ دم کیا جائےجو رسولﷺ سے ثابت ہو۔ تاہم معنی کے لحاظ سے اس روایت کے الفاظ اچھےہیں۔