Book - حدیث 3871

كِتَابُ الطِّبِّ بَابٌ فِي الْأَدْوِيَةِ الْمَكْرُوهَةِ صحیح حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ كَثيِرٍ أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ عَنْ ابْنِ أَبِي ذِئْبٍ عَنْ سَعِيدِ بْنِ خَالِدٍ عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عُثْمَانَ أَنَّ طَبِيبًا سَأَلَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ ضِفْدَعٍ يَجْعَلُهَا فِي دَوَاءٍ فَنَهَاهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ قَتْلِهَا

ترجمہ Book - حدیث 3871

کتاب: علاج کے احکام و مسائل باب: مکروہ ادویات کا استعمال سیدنا عبدالرحمٰن بن عثمان ؓ سے مروی ہے کہ ایک معالج نے نبی کریم ﷺ سے مینڈک کے متعلق دریافت کیا کہ کیا اسے دوا میں ڈال لیا کرے تو نبی کریم ﷺ نے اس ( طبیب ) کو مینڈک کے قتل کرنے سے منع کر دیا ۔ مینڈک کو قتل کرنے سے منع فرمایا ہے تو معلو م ہوا کہ اس کا دوا وغیرہ میں استعمال بھ حرام ہے۔اگرچہ یہ پانی کا جانور ہے مگر ہفتوں اور مہینوں پانی کے بغیر بھی زندہ رہتا ہےاس لیئے مچھلی کے حکم سے خارج ہے۔